BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

امریکی جج نے پینٹاگون کی میڈیا پر پابندیاں غیر آئینی قرار دے دی

  • پالیسی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر، فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے، شان پارنیل
شائع اپ ڈیٹ

ایک وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی پینٹاگون تک میڈیا کی رسائی سے متعلق سخت گیر پالیسی کو روک دیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت ان صحافیوں کو سیکیورٹی رسک (سیکیورٹی کے لیے خطرہ) قرار دینے کی دھمکی دی گئی تھی جو ایسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جنہیں عوامی سطح پر جاری کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

واشنگٹن ڈی سی کی وفاقی عدالت میں نیویارک ٹائمز کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ گزشتہ سال محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے کی جانے والی پالیسی تبدیلیوں نے اسے من مانی چھوٹ دے دی تھی کہ وہ ان رپورٹرز اور خبر رساں اداروں کا بائیکاٹ کرسکے جن کی کوریج محکمے کو پسند نہ ہو۔ مقدمے کے مطابق یہ عمل اظہارِ رائے کی آزادی اور قانونی تقاضوں سے متعلق آئینی تحفظات کی خلاف ورزی ہے۔

حکومت نے اس موقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی معقول ہے اور قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔

امریکی ڈسٹرکٹ جج پال فریڈمین نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وہ فوجیوں اور جنگی منصوبوں کے تحفظ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن صدرٹرمپ کی جانب سے وینزویلا میں حالیہ مداخلت اور ایران کے ساتھ جنگ کے پیش نظر یہ بات پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے کہ عوام کو مختلف زاویوں سے اس بارے میں معلومات تک رسائی حاصل ہو کہ ان کی حکومت کیا کررہی ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے سوشل میڈیا پر کہا کہ حکومت اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتی اور اس کے خلاف فوری اپیل دائر کرے گی۔

نیویارک ٹائمز کے ترجمان چارلی اسٹیٹ لینڈر نے کہا کہ یہ عدالتی فیصلہ آزاد صحافت کے لیے آئینی طور پر محفوظ حقوق کا نفاذ کرتا ہے اور نیویارک ٹائمز اور دیگر آزاد میڈیا کے اس حق کی توثیق کرتا ہے کہ وہ عوام کی جانب سے سوالات پوچھنے کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔

ایک بیان میں اسٹیٹ لینڈر نے کہا کہ امریکی عوام اس بات کی وضاحت دیکھنے کے حقدار ہیں کہ ان کی حکومت کیسے چلائی جارہی ہے اور فوج ان کے نام پر اور ان کے ٹیکس کے پیسوں سے کیا اقدامات کررہی ہے۔

Comments

Comments are closed.