بھارت کی پارلیمانی کمیٹی نے معاہدہ پر کام کرنے والے مزدوروں کے لیے مضبوط تحفظ کی سفارش کردی
- بھارتی حکومت نے گزشتہ سال نومبر میں چار لیبر کوڈز کے نفاذ کا اعلان کیا
بھارت کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ معاہدہ پر کام کرنے والے مزدوروں کو قومی لیبر ڈیٹا بیس پر لازمی طور پر رجسٹر کیا جائے، اور ساتھ ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر واضح قانونی ذمہ داریاں عائد کی جائیں کہ وہ ان کے سماجی تحفظ میں حصہ ڈالیں۔
مستقل کمیٹی برائے مزدور نے منگل کو اپنی رپورٹ میں کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام کرنے والے معاہدہ پر مزدور جدید سپلائی چین کا ایک “اہم حصہ” بن چکے ہیں، خاص طور پر شہروں میں خوراک، نقل و حمل اور دیگر آن ڈیمانڈ خدمات فراہم کرنے میں، مگر کئی مزدور اب بھی رسمی لیبر رجسٹریشن اور سماجی تحفظ کے نظام سے باہر ہیں۔
اس خلا کو پُر کرنے کے لیے، کمیٹی نے سفارش کی کہ تمام پلیٹ فارم ایگریگیٹرز، جیسے سوئگی، اولہ اور زومیٹو، معاہدہ پر کام کرنے والے مزدوروں کو حکومت کے ای-شرم پورٹل پر رجسٹر کریں، جو غیر منظم ورکرز کے لیے قومی ڈیٹا بیس ہے۔
کمیٹی نے کہا کہ ایسے مزدوروں کی خدمات سے منسلک ہونا اس رجسٹریشن کے بغیر ممکن نہیں ہونا چاہیے۔
یہ سفارشات بھارت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی گیگ اکانومی کے دوران سامنے آئی ہیں، جہاں لاکھوں افراد رائیڈ-ہیلنگ، لاجسٹکس اور خوراک کی ترسیل جیسے شعبوں میں ایپ بیسڈ پلیٹ فارمز پر کام کر رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے گزشتہ سال نومبر میں چار لیبر کوڈز کے نفاذ کا اعلان کیا، جس کا مقصد فیکٹریوں اور مزدوروں کے پرانے قوانین کو جدید بنانا اور معاہدہ پر کام کرنے والے مزدوروں اور پلیٹ فارم ورکرز کے لیے سماجی تحفظ کے فوائد فراہم کرنا تھا۔
تاہم، اب تک ان فوائد کے حوالے سے عملدرامد نہیں کیا گیا ہے۔
اگرچہ بھارت کی گیگ اکانومی (معاہدے پر مبنی عارضی معیشت) کے حجم کا کوئی سرکاری اندازہ موجود نہیں، مگر حکومتی تحقیقی ادارے نیتی آیوگ کا اندازہ ہے کہ یہ شعبہ 2030 تک تقریباً 2 کروڑ 35 لاکھ افراد کو ملازمت فراہم کرے گا، یعنی غیر زرعی ورک فورس کا تقریباً 7 فیصد۔
کمیٹی نے یہ بھی تجویز دی کہ رجسٹریشن کم از کم ایک سال کے لیے برقرار رہے، اور معاہدہ پر کام کرنے والے مزدور اس دوران بنیادی سماجی تحفظ کے فوائد، جیسے انشورنس اور حادثاتی کوریج، حاصل کرتے رہیں، چاہے وہ کسی خاص ایگریگیٹر کے ساتھ کام بند کر دیں۔
کمیٹی نے حکومت پر زور دیا کہ لیبر کوڈز میں معاہدہ پر کام کرنے والے اور پلیٹ فارم ورکرز کے لیے واضح شقیں شامل کی جائیں، جس میں ایگریگیٹرز کی ذمہ داریاں متعین کی جائیں اور سماجی تحفظ کے منصوبوں میں ان کے تعاون کو یقینی بنایا جائے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارت کی ڈیجیٹل اکانومی کے بڑھنے کے ساتھ غیر روایتی ملازمت کے انتظامات میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے سماجی تحفظ کا دائرہ کار مضبوط بنایا جائے۔


Comments