BR100 Increased By (0.04%)
BR30 Decreased By (-0.23%)
KSE100 Increased By (0.04%)
KSE30 Increased By (0.11%)
BAFL 56.19 Decreased By ▼ -0.28 (-0.5%)
BIPL 24.80 Increased By ▲ 0.17 (0.69%)
BOP 30.00 Decreased By ▼ -0.12 (-0.4%)
CNERGY 12.85 Decreased By ▼ -0.13 (-1%)
DFML 18.18 Increased By ▲ 0.69 (3.95%)
DGKC 189.00 Increased By ▲ 1.78 (0.95%)
FABL 93.35 Decreased By ▼ -0.36 (-0.38%)
FCCL 51.70 Increased By ▲ 0.05 (0.1%)
FFL 14.48 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
GGL 18.94 Decreased By ▼ -0.10 (-0.53%)
HBL 302.95 Decreased By ▼ -0.83 (-0.27%)
HUBC 200.00 Increased By ▲ 1.04 (0.52%)
HUMNL 9.89 Increased By ▲ 0.04 (0.41%)
KEL 6.02 Decreased By ▼ -0.04 (-0.66%)
LOTCHEM 26.29 Increased By ▲ 0.12 (0.46%)
MLCF 91.65 Increased By ▲ 0.42 (0.46%)
OGDC 314.70 Increased By ▲ 1.31 (0.42%)
PAEL 34.99 Decreased By ▼ -0.25 (-0.71%)
PIBTL 14.40 Decreased By ▼ -0.31 (-2.11%)
PIOC 238.50 Decreased By ▼ -1.12 (-0.47%)
PPL 220.69 Decreased By ▼ -0.67 (-0.3%)
PRL 92.10 Increased By ▲ 0.88 (0.96%)
SNGP 90.99 Increased By ▲ 0.12 (0.13%)
SSGC 23.30 No Change ▼ 0.00 (0%)
TELE 7.50 Decreased By ▼ -0.11 (-1.45%)
TPLP 12.16 Decreased By ▼ -0.40 (-3.18%)
TRG 55.28 Decreased By ▼ -0.51 (-0.91%)
UNITY 8.08 Increased By ▲ 0.06 (0.75%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)
پاکستان

آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، وزیر اطلاعات

  • دوران کارروائی 224 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے کی گنز تباہ کی گئیں، عطا اللہ تارڑ
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے بتایا ہے کہ اس نے 12 اور 13 مارچ کی درمیانی شب آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر درست نشانہ بنانے والے (پریسجن) حملے کیے ہیں۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق ان حملوں میں افغان سرزمیں سے پاکستان پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ تفصیلات میں عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ اس آپریشن کا ہدف فتنہ الخوارج اور افغان طالبان سے وابستہ دہشت گرد عناصر کی تنصیبات، تربیتی کیمپ اور لاجسٹک مراکز تھے۔

پاکستانی افواج نے کابل، پکتیا اور قندھار کے متعدد مقامات پر فضائی کارروائی کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے کیمپوں اور معاونتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔

وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ ان حملوں کا مقصد خاص طور پر ان جگہوں کو تباہ کرنا تھا جو براہِ راست یا بالواسطہ پاکستان میں دہشت گردی کی سہولت کاری کر رہی تھیں اور اس دوران کسی بھی شہری آبادی یا سویلین انفرااسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

انہوں نے افغان حکام اور بعض میڈیا اداروں کی جانب سے شہری ہلاکتوں کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو شواہد ثابت کرتے ہیں کہ آپریشن میں صرف دہشت گردوں کی تنصیبات کو ہی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔

آپریشنل اپ ڈیٹ کے مطابق اس مہم میں اب تک دہشت گردوں کا بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے، جس میں 663 ہلاک اور 887 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

عطا اللہ تارڑ نے مزید بتایا کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی 249 چوکیاں تباہ، 44 پر قبضہ، جبکہ 224 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے کی گنز تباہ کی گئیں۔

علاوہ ازیں بیان میں کہا گیا کہ افغانستان بھر میں دہشت گردوں کے 70 مقامات اور معاونتی مراکز کو فضائی حملوں کے ذریعے مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاکستان مسلسل یہ موقف اپناتا رہا ہے کہ دہشت گرد گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اور اس نے بارہا افغان حکام سے ایسی سرگرمیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Comments

Comments are closed.