ایف بی آر ٹیکس فراڈ کے مقدمات فوری طور پرڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کو بھیجے گا
- سیلز ٹیکس ایکٹ، 1990 کی شق 37A کے تحت مجاز افسر کو ٹیکس فراڈ یا ایکٹ کے تحت کسی جرم کی تفتیش اور انکوائری کا اختیار حاصل ہے
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ہدایت دی ہے کہ سیلز ٹیکس کے جائزے، آڈٹ، غلط ادائیگی شدہ ریفنڈز اور سیلز ٹیکس کی وصولی کے دوران سامنے آنے والے ٹیکس فراڈ کے مقدمات فوری طور پر ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) کو بھیجے جائیں۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق، سیلز ٹیکس ایکٹ، 1990 کی شق 37A کے تحت مجاز افسر کو ٹیکس فراڈ یا ایکٹ کے تحت کسی جرم کی تفتیش اور انکوائری کا اختیار حاصل ہے۔ اس کے علاوہ، افسر کو سول کورٹ کے اختیارات حاصل ہیں اور وہ گرفتاری کے لیے بھی مجاز ہے جیسا کہ ایکٹ میں بیان کیا گیا ہے۔
ایف بی آر نے کہا کہ شق 37A کے تحت اختیارات کے مؤثر اور قانونی استعمال کے لیے ایک منظم طریقہ کار وضع کرنا ضروری ہے تاکہ کی جانے والی کارروائی قانونی طور پر اپیل فورمز میں قابل قبول ہو۔ اس لیے تمام فیلڈ فارمیشنز کے لیے ایک اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) جاری کیا گیا ہے۔
ایس او پی کے تحت، اگر کسی شخص کے ٹیکس فراڈ کے شواہد ملیں تو معاملہ فوری طور پر متعلقہ ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کو بھیج دیا جائے گا۔ متعلقہ ڈائریکٹر کو موصول ہونے کے بعد 30 دن کے اندر کیس کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ فیصلہ کیا جا سکے کہ شق 37A کے تحت کارروائی کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اگر کارروائی ضروری ہو تو متعلقہ کمشنر کو باقاعدہ اطلاع دی جائے گی، اور اگر ضروری نہ ہو تو کیس واپس متعلقہ دائرہ اختیار کو بھیج کر شق 11E کے تحت حتمی کارروائی کی جائے گی۔
مزید برآں، شق 37A کی انکوائری کے بعد اگر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کو تفتیش شروع کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 2 آف 2025 کے تحت کارروائی مکمل کی جائے گی۔
ایف بی آر نے تمام فیلڈ فارمیشنز کو سختی سے کہا ہے کہ ایس او پی کی مکمل تعمیل کریں تاکہ ٹیکس فراڈ کی نشاندہی اور تفتیش قانونی اور شفاف طریقے سے ہو سکے اور کسی بھی قانونی چیلنج کے لیے مضبوط بنیاد موجود ہو۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments