اقوامِ متحدہ کا مالی بحران امن مشن کو متاثر کررہا ہے، پاکستان
پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کو درپیش مالی بحران براہِ راست امن مشنز کو متاثر کررہے ہیں۔
اسپیشل کمیٹی آن پیس کیپنگ آپریشنز کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کو درپیش مالی بحران براہِ راست امن مشنز کو متاثر کررہا ہے جس کے باعث گشت، نقل و حرکت اور فیلڈ میں موجودگی کم ہورہی ہے۔ اس صورتِ حال کے نتیجے میں مینڈیٹ پر عملدرآمد، شہریوں کے تحفظ، تشدد کی روک تھام اور امن اہلکاروں کی سلامتی و تحفظ پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کے لیے ناگزیر ذریعہ ہیں۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ مشنز اس وقت بڑھتے ہوئے سیاسی، عملیاتی اور مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے لیے اجتماعی غور و فکر اور مؤثر اقدام کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے امن مشنز میں طویل اور نمایاں کردار کا ذکر کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے قدیم ترین امن مشنز میں سے ایک، یونائیٹڈ نیشنز ملٹری آبزرور گروپ اِن انڈیا اینڈ پاکستان کی میزبانی کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان گزشتہ 6 دہائیوں سے زائد عرصے سے امن مشنز کے لیے سب سے بڑے اور مسلسل دستے فراہم کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے اور اب تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد پاکستانی امن اہلکار چار براعظموں میں 48 مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے 182 پاکستانی امن اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
سفیر عاصم نے کہا کہ اگرچہ حالیہ برسوں میں بعض مشنز کی منتقلی یا اختتام عمل میں آیا ہے لیکن بڑھتی ہوئی عالمی بے یقینی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد بلند ترین سطح کے تنازعات کے باوجود ایک دہائی سے زائد عرصے سے کوئی نیا امن مشن قائم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر اقوامِ متحدہ اور عارضی نوعیت کے مشنز کا سہارا لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ امن مشنز کی ضرورت برقرار ہے۔ اصل مسئلہ مطابقت کا نہیں بلکہ عزم اور اجتماعی سیاسی ارادے کا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کی امتیازی خصوصیات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی قانونی حیثیت عالمگیر شمولیت، باقاعدہ اور قابلِ پیشگوئی مالی نظام، اور مستحکم ادارہ جاتی ڈھانچوں بشمول کمانڈ اینڈ کنٹرول، لاجسٹکس اور احتسابی نظام سے حاصل ہوتی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ قابلِ پیشگوئی مالی وسائل، جو کبھی سب سے بڑی طاقت تھے، اب سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں اور ہنگامی اقدامات کے تحت مختلف مشنز میں فوجی اور سویلین عملے میں کمی کی جارہی ہے۔
سلامتی کونسل کی جانب سے منظور شدہ مینڈیٹس کو متناسب اور قابلِ پیشگوئی وسائل سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے امن مشنز کے مالیاتی ڈھانچے کا سنجیدہ اور منظم جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ فنڈنگ کو پائیدار، قابلِ پیشگوئی اور مینڈیٹس سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مالی وعدے کمزور پڑتے رہے اور واضح حکمتِ عملی کے بغیر مشنز محدود ہوتے رہے تو امن مشنز کے لیے دستے فراہم کرنے والے ممالک کی تیاری بھی متاثر ہوسکتی ہے جس میں اسٹینڈ بائی انتظامات، فوری تعیناتی کی صلاحیت اور خصوصی یونٹس شامل ہیں۔
اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے مستقل مندوب نے کہا کہ امن مشنز کو زیادہ فعال، مرکوز اور بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر لیس ہونا چاہیے جس میں ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال اور مضبوط شراکت داریاں شامل ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کا تحفظ، خلاف ورزیوں کی روک تھام اور جنگ بندی کی نگرانی و تصدیق بنیادی ذمہ داریاں ہیں اور سیاسی پیش رفت کی کمی کو مشنز کے خاتمے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔


Comments