سپر ٹیکس کی فوری وصولی، کاٹی کا وفاقی حکومت سے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ
- اقدام پہلے سے ہی مشکلات کا شکار صنعتوں کو مکمل تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے، اکرام راجپوت
کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی ) کے صدر محمد اکرام راجپوت نے وفاقی حکومت کے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جس کے تحت برآمد کنندگان سے 2022 سے 2026 تک کی مدت کے لیے سپر ٹیکس کی مد میں 217 ارب روپے فوری طور پر وصول کیے جائیں گے۔ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ یہ اقدام پہلے سے ہی مشکلات کا شکار صنعتوں کو مکمل تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
اکرام راجپوت نے کہا کہ صنعتی شعبہ پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے، اور اتنی خطیر رقم کی اچانک وصولی بحران کو مزید سنگین بنا دے گی۔ انہوں نے حکومت کے اس فیصلے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف مقامی صنعت کو نقصان پہنچے گا بلکہ ملک میں سرمایہ کاری کے لیے بھی شدید خطرات پیدا ہوں گے۔
صدر کاٹی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ سپر ٹیکس کے نفاذ کے بعد سے صنعتوں پر ٹیکس کا مجموعی بوجھ 50 فیصد سے تجاوز کرگیا ہے جس کی وجہ سے کاروبار کرنا عملی طور پر ناممکن ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجلی اور گیس کے مہنگے ٹیرف پہلے ہی پیداواری لاگت کو خطے میں بلند ترین سطح پر لے جا چکے ہیں جس نے پاکستانی برآمدات کی عالمی مقابلے کی صلاحیت کو مزید ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے صنعتی اور تجارتی شعبوں کے لیے فوری ریلیف کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک عملی اور صنعت دوست میکانزم (طریقہ کار) وضع کرنے کے لیے حکومت اور ملک بھر کی تجارتی و صنعتی تنظیموں کے درمیان فوری اور بامعنی مشاورت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ چار سال کے واجبات کی یکمشت ادائیگی کا مطالبہ کرنے کے بجائے، بقایا سپر ٹیکس کو تین سے چار سال کی آسان اقساط میں وصول کیا جانا چاہیے۔ متبادل کے طور پر انہوں نے مشورہ دیا کہ 25 فیصد پیشگی ادائیگی پر خصوصی رعایت دی جائے اور اسے برآمد کنندگان کے پاس موجود واجب الادا ریفنڈزکے عوض ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ نقد رقم کی کمی کا شکار برآمد کنندگان کو اشد ضرورت کا ریلیف فراہم کیا جا سکے۔


Comments