20 سال بعد بسنت کی واپسی، لاہور کا آسمان رنگوں سے سج گیا
- تہوار صرف لاہور میں منایا جائے گا، صوبے کے دیگر علاقوں میں پابندی برقرار رہے گی، وزیراعلیٰ پنجاب کا اعلان
لاہور کا وہ تہوار جس کا برسوں سے انتظار تھا تقریباً دو دہائیوں بعد اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ لوٹ آیا ہے اور یہ میٹروپولیس ایک بار پھر بسنت کے رنگوں میں نہا گئی ہے۔
6 فروری (آج) سے شروع ہونے والے تین روزہ جشنِ بسنت کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں، جس کے لیے شہر کے مختلف حصوں میں انفرادی اور تنظیمی سطح پر تمام ضروری انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
تہوار کے پہلے ہی دن آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھر گیا، چھتیں آباد ہو گئیں اور ہر طرف بو کاٹا کی صدائیں گونجنے لگیں۔ فضا میں رنگین پتنگیں اور کاغذ کے طیارے چھا گئے جبکہ شہر بھر میں جشن کے نعرے گونجنے لگے، جس سے لاہور ایک سجی دھجی دلہن کی طرح نظر آنے لگا۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے بسنت کی راتیں اپنی چھتوں پر گزاریں، جہاں خاندان اور دوست احباب مل کر جشن منانے کے لیے جمع ہوئے۔
لاہور کا اندرون شہر بسنت کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے جو 8 فروری (اتوار) تک جاری رہیں گی۔
ادھر پنجاب حکومت کی جانب سے 18 سال بعد اس تاریخی تقریب پر سے پابندی ہٹانے کے فیصلے کا عوام نے بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔ حکومت پنجاب نے محفوظ بسنت کو یقینی بنانے کے لیے سخت ضوابط نافذ کیے ہیں۔ بسنت کے دوران صرف سوتی ڈور (دھاگے) فروخت کرنے کی اجازت ہے، جبکہ دھاتی ڈور اور مقررہ سائز سے بڑی پتنگوں کی تیاری پر سخت پابندی عائد ہے۔ صوبائی حکومت نے ایسی پتنگوں کی تیاری پر بھی پابندی عائد کی ہے، جن پر کسی شخص، مقدس تحریر، مذہبی مقام، ملک کے جھنڈے یا کسی سیاسی جماعت کی تصاویر ہوں۔ پولیس بسنت پر عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے انتظامات کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے ایکس (ٹویٹر) اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ 25 سال بعد بسنت کے دوبارہ زندہ ہونے کے ساتھ لاہور کے آسمانوں پر پتنگیں لوٹ آئی ہیں! یہ ثقافت، رنگوں اور کمیونٹی کا جشن ہے! آئیے ذمہ داری کے ساتھ مل کر ان خوشیوں کا لطف اٹھائیں، تمام حفاظتی ایس او پیز پر عمل کریں اور اس بسنت کو سب کے لیے محفوظ بنائیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پہلے ہی 6 تاریخ کو صوبائی تعطیل برائے بسنت اور اس کے بعد ہفتہ اور اتوار کے ساتھ لانگ ویک اینڈ کا اعلان کر رکھا ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب میں بسنت کے تہوار پر 2007 میں پابندی عائد کی گئی تھی کیونکہ تیز دھار ڈور کی وجہ سے اموات اور شدید زخمی ہونے کے واقعات (خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں کے ساتھ) اور ہوائی فائرنگ میں اضافہ ہو گیا تھا، جیسا کہ بزنس ریکارڈر نے جمعہ کو رپورٹ کیا۔
محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق لاہور میں بسنت 2026 کے دوران 6 اور 7 فروری کو موسم خشک اور آسمان صاف رہنے کی توقع ہے، جبکہ 8 فروری کو مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہ سکتا ہے۔ 10 سے 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہلکی مغربی/شمال مغربی ہوائیں چلنے کا امکان ہے، جو محفوظ پتنگ بازی کے لیے موزوں ہیں۔
اگرچہ لوگ پتنگ بازی سے متعلقہ اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی شکایت کر رہے ہیں لیکن گزشتہ چند دنوں کے دوران لاہور میں لاکھوں روپے کی پتنگیں ودیگر اشیا فروخت ہوئی۔
مزید برآں وزیراعلیٰ نے راولپنڈی میں پیش آنے والے اس واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے جس میں پتنگ کی ڈور سے ایک چھوٹی بچی زخمی ہو گئی تھی۔ انہوں نے کمشنر راولپنڈی سے تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔
وزیراعلیٰ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بسنت صرف لاہور میں منائی جائے گی، جبکہ باقی پنجاب میں پتنگ بازی پر سختی سے پابندی رہے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ممنوعہ اور خطرناک ڈور کے استعمال کی اجازت دے کر خوشی کے تہوار کو المیے میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ قانون کے سخت نفاذ کو یقینی بنائیں اور ممنوعہ ڈور کی فروخت اور استعمال میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں، تاکہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی جا سکے۔


Comments