چین کو پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت
- فورم 8 اور 9 اپریل کو منعقد ہوگا، تاکہ سی پیک کے تحت پاک چین اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے
وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ پاکستان کے معدنی وسائل برآمدات میں نمایاں اضافے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور آئندہ چند برسوں میں سالانہ 6 سے 8 ارب ڈالر تک معدنی برآمدات ممکن بنائی جا سکتی ہیں۔ حکومت نے چینی کمپنیوں کو پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 میں شرکت کی باضابطہ دعوت بھی دی ہے، جو 8 اور 9 اپریل کو منعقد ہوگا، تاکہ سی پیک کے تحت پاک چین اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ بات وفاقی وزرا احسن اقبال، علی پرویز ملک اور قیصر احمد شیخ نے اسلام آباد میں پاک چین منرل کوآپریشن فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ فورم میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ، سرکاری حکام، چینی و پاکستانی کمپنیوں کے نمائندے اور سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں معدنی ترقی کو مرکزی اہمیت دی جا رہی ہے تاکہ رابطوں کو پیداواری صلاحیت، برآمدات اور طویل مدتی معاشی نمو میں بدلا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کو معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کے مرکزی دروازے کی حیثیت حاصل ہوگی۔ ان کے مطابق پاکستان میں 92 اقسام کے معدنیات پائی جاتی ہیں جن میں سے 52 کی کان کنی ہو رہی ہے، تاہم برآمدات اب بھی کم ہیں کیونکہ زیادہ تر معدنیات خام یا نیم تیار شکل میں برآمد کی جاتی ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن اور معدنی پروسیسنگ پلانٹس کے قیام سے پاکستان اپنی معدنی دولت کو صنعتی طاقت میں بدل سکتا ہے۔ انہوں نے نوکنڈی تا گوادر راہداری کو بلوچستان کے معدنی بیلٹ کو بندرگاہ سے جوڑنے کے لیے اہم منصوبہ قرار دیا۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ عالمی سطح پر توانائی کی منتقلی کے باعث تانبے اور دیگر اہم معدنیات کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان چین کے تعاون سے عالمی سپلائی چین میں قابل اعتماد شراکت دار بن سکتا ہے۔
وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو خصوصی اقتصادی زونز میں مراعات اور آسان کاروباری ماحول فراہم کر رہی ہے۔ چینی سفیر نے بھی پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری، مہارتوں کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments