ایم کیو ایم وزرا اور اراکین کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی، سیاسی و حکومتی حلقوں میں تشویش
- جن شخصیات کی سیکیورٹی واپس لی گئی ان میں وفاقی وزیر خالد مقبول ، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی اور علی خورشیدی شامل ہیں
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے اہم وزرا اور اراکین اسمبلی کی پولیس سیکیورٹی اچانک واپس لیے جانے پر سیاسی اور حکومتی حلقوں میں تشویش کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔
آج نیوز نے کے مطابق جن شخصیات کی سیکیورٹی واپس لی گئی ہے ان میں وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی اور علی خورشیدی شامل ہیں۔
ایم کیو ایم رہنماؤں نے سیکیورٹی واپس لینے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس اقدام کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کیا گیا جس نے سیکیورٹی خدشات کو جنم دیا ہے۔
رہنماؤں کا موقف ہے کہ حالیہ دنوں میں سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت پر کی گئی تنقید ممکنہ طور پر اس اقدام کی وجہ ہوسکتی ہے، تاہم اس حوالے سے حکام کی جانب سے باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
اگر سیکیورٹی انتظامات میں تبدیلی کی گئی ہے تو اس کی وجوہات اور قانونی بنیاد واضح کی جانی چاہئیں۔
صورتحال پر اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان نے آج شام چار بجے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کرلی ہے جس میں سیکیورٹی واپس لینے کے فیصلے، ممکنہ خدشات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ شہر میں پولیس کم ہے، ہوسکتا ہے اس وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے پولیس سیکیورٹی واپس لی گئی ہو۔
سعدیہ جاوید نے کہا کہ میرے پاس کوئی سیکیورٹی نہیں ہے، سندھ کے حکومتی ایم پی ایز کے پاس بھی کوئی سیکیورٹی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کی یقیناً کوئی وجوہات ہوں گی۔


Comments