معاشی سرگرمیاں تیز کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک کا بڑا قدم، کیش ریزرو ریکوائرمنٹ میں کٹوتی
- یومیہ بنیاد پر برقرار رکھے جانے والےسی آرآر کو 4 سے کم کرکے 3 فیصد کردیا گیا
مرکزی بینک نے بینکوں کیلئے اوسط کیش ریزرو ریکوائرمنٹ (سی آرآر)میں ایک فیصد پوائنٹ کی کمی کر دی جس سے مالیاتی اداروں کی قرض دینے کی صلاحیت میں اضافہ اور کاروباری اداروں کو کریڈٹ کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ اس اقدام سے ملکی معاشی سرگرمیوں کے تیز ہونے کی توقع ہے۔
پیر کو پریس کانفرنس میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ بینک نے روزانہ کی بنیاد پر برقرار رکھے جانے والے کیش ریزرو ریکوائرمنٹ (سی آرآر) کو 4 فیصد سے کم کرکے 3 فیصد کر دیا ہے، اسی طرح پندرہ روزہ بنیاد پر اس ضرورت کو 6 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد کردیا گیا ہے۔
انہوں نےکہا کہ اس اقدام کا مقصد کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی میں اضافہ کرنا اور ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
ٹاپ لائن سیکورٹیز کے تجزیہ کار اسد علی کے مطابق کیش ریزرو ریکوائرمنٹ (سی آرآر)میں کمی کے نتیجے میں بینکنگ سیکٹر میں 300 سے 315 ارب روپے کی اضافی لیکوڈٹی (نقد رقم)دستیاب ہوگی۔
مرکزی بینک نے تازہ ترین مانیٹری پالیسی بیان میں پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا ہے جب کہ تاجر برادری نے مطالبہ کیا تھا کہ اسے سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے تاکہ وہ اپنے کاروبار چلانے اور ان میں وسعت لانے کیلئے بینکوں سے سستا سرمایہ حاصل کر سکیں۔
تاہم مرکزی بینک نے سی آر آرمیں کمی کر دی ہے تاکہ بینک کاروباری اداروں کو زیادہ قرضے فراہم کرنے کے قابل ہو سکیں۔
قبل ازیں مالیاتی تجزیہ کاروں نے توقع ظاہر کی تھی کہ بینک آج پالیسی ریٹ میں 75 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کر کے اسے 9.5 فیصد تک لے آئے گا۔
پیر کوجاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں مرکزی بینک نے کہا کہ بہترہوتے ہوئے میکرو اکنامک ماحول کے پیشِ نظر اور نجی شعبے کو قرض دینے کی بینکوں کی صلاحیت میں اضافے کے لیے اوسط کیش ریزرو ریکوائرمنٹ کو کم کر کے 5 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ روزانہ کی کم از کم ضرورت 3 فیصد ہوگی، ان نئی شرائط کا اطلاق 30 جنوری 2026 سے ہوگا۔
پیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے سربراہ نے بتایا کہ بینک نے جاری مالی سال 2025-26 کے لیے معاشی سرگرمیوں (ترقی)کے تخمینے پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے نصف فیصد بڑھا کر 3.75 سے 4.75 فیصد کی رینج میں کر دیا ہے۔
اس سے قبل جولائی 2025 میں، بینک نے جی ڈی پی کی شرحِ نمو 3.25 سے 4.25 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ظاہر کی تھی۔


Comments