چاول کے برآمد کنندگان کے لیے 15 ارب روپے کی امداد: حکومت کا غلط استعمال روکنے اور شفافیت یقینی بنانے کا اعلان
- وزارتِ تجارت کسٹمز کے ساتھ مشاورت سے سخت طریقہ کار وضع کررہی ہے
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق سیکرٹری کامرس کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ وزارتِ تجارت، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)، پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) اور کسٹمز کے ساتھ مشاورت سے ایک سخت طریقہ کار وضع کررہی ہے، اس اقدام کا مقصد چاول کے برآمد کنندگان کے لیے تین ماہ کی مدت کے لیے منظور شدہ 15 ارب روپے کی مالی معاونت کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔
وزیرِ تجارت کی زیرِ صدارت ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی ایف) نے بورڈ کے متعدد ارکان کی مخالفت کے باوجود چاول کے شعبے کے لیے اس مالی معاونت کی منظوری دی۔
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) کے چیئرمین، فیصل جہانگیر کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل کے بعد چاول پاکستان کی دوسری بڑی برآمدی صنعت ہے، جو زرمبادلہ کے حصول، دیہی علاقوں میں روزگار کی فراہمی اور زرعی و صنعتی سرگرمیوں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر سپلائی میں عارضی خلل کے باعث مالی سال 2021 میں چاول کی برآمدات 2.04 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2024 میں 3.93 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، تاہم بڑے سپلائرز کی دوبارہ مارکیٹ میں واپسی کے بعد مالی سال 2025 میں یہ کم ہو کر 3.35 ارب ڈالر رہ گئیں۔
موجودہ مالی سال میں برآمدات میں کمی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، جہاں جولائی سے دسمبر کے دوران گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں برآمدات میں تقریباً 854 ملین ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس میں سے نان باسمتی چاول کی برآمدات میں 716 ملین ڈالر، جبکہ باسمتی کی برآمدات میں 138 ملین ڈالر کی کمی آئی، جو کہ دونوں اقسام (پریمیئم اور عام) میں عالمی سطح پر مسابقت کھو دینے کی نشاندہی کرتا ہے۔
بھارت کی بھاری سبسڈیز کے ساتھ عالمی منڈی میں واپسی نے رسد میں اضافہ کردیا ہے، جس سے قیمتیں گر گئی ہیں اور (پاکستان و بھارت کے درمیان) قیمتوں کا فرق بڑھ گیا ہے۔ بھارتی باسمتی کی قیمت تقریباً 850 سے 900 ڈالر فی میٹرک ٹن ہے جبکہ پاکستانی باسمتی کی قیمت 1,150 سے 1,275 ڈالر فی میٹرک ٹن ہے۔
اسی دوران، ملک کے اندر دھان کی بلند قیمتوں، فنانسنگ کی زیادہ لاگت، درآمدی ممالک میں اسٹاک کا جمع ہونا اور علاقائی تجارتی تنازعات نے برآمدات کو مزید محدود کر دیا ہے، جس سے پوری سپلائی چین میں سرمائے کی کمی پیدا ہو گئی ہے۔
فیصل جہانگیر نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ پیداوار کا نہیں ہے، کیونکہ پاکستان کے پاس تقریباً 41 لاکھ میٹرک ٹن کا برآمدی سرپلس موجود ہے۔ اگر مسابقت کے قلیل مدتی مسائل حل کر لیے جائیں تو اس سے تقریباً 2 ارب ڈالر کا فوری برآمدی زرِ مبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے 30 جون 2026 تک باسمتی چاول کی برآمدات پر 9 فیصد اور نان باسمتی پر 3 فیصد کی شرح سے مالی مدد کی درخواست کی۔
ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ٹڈاپ) کے چیف ایگزیکٹو، فیض احمد نے مشاہدہ کیا کہ گزشتہ سال برآمدات میں اضافہ بنیادی طور پر بھارت کی جانب سے برآمدی پابندی کی وجہ سے ہوا تھا، جس کا فائدہ پاکستانی برآمد کنندگان کو ملا۔ اب بھارت کی واپسی کے بعد عالمی مارکیٹ شیئر میں کمی غیر متوقع نہیں تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسان پہلے ہی اپنی فصلیں فروخت کر چکے ہیں، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سبسڈی کا فائدہ صرف سپلائی چین کے چند (بڑے) پلیئرز کو ہی ملے گا۔
پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین بابر خان نے زور دیا کہ ڈی ایل ٹی ایل وزارتِ تجارت کے تحت ایک وفاقی پالیسی اقدام ہے اور اس کا ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اسی نوعیت کے مسائل ویلیو ایڈڈ ملبوسات اور ٹیکسٹائل کے شعبوں کو بھی درپیش ہیں۔
پی ایچ ایم اے نے تمام برآمدی شعبوں کے لیے یکساں اور منصفانہ پالیسی فریم ورک کا مطالبہ کیا اور سفارش کی کہ ای ڈی ایس کی وصولیاں کسی ایک شعبے کو کراس سبسڈی دینے کے بجائے براہِ راست برآمد کنندگان کو واپس کی جائیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اجلاس مختصر نوٹس پر بلایا گیا اور کوئی تفصیلی تجویز پیشگی شیئر نہیں کی گئی۔
ٹاٹا بیسٹ فوڈ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو بلال شاہد ٹاٹا نے بھی اس تجویز کی مخالفت کی اور کہا کہ اس نوعیت کی سبسڈیز ای ڈی ایف کے مینڈیٹ کے منافی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسکیم کی منظوری دیگر شعبوں کی جانب سے بھی اسی طرح کے مطالبات کو جنم دے سکتی ہے جبکہ سبسڈیز کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتیں۔
اس کے برعکس انہوں نے زور دیا کہ ای ڈی ایف کو تحقیق و ترقی ، برانڈنگ، ٹیکنالوجی کی بہتری اور مہارتوں کی ترقی جیسے ساختی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔
بورڈ ارکان نے تجویز دی کہ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان بہتر فصل مینجمنٹ، پانی کے مؤثر استعمال پر مبنی کاشتکاری طریقوں اور فی ہیکٹر پیداوار میں اضافے پر مبنی تجاویز پیش کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قلیل مدتی سبسڈیز نہ صرف مقامی منڈیوں میں بگاڑ پیدا کرسکتی ہیں بلکہ طویل مدتی مسابقت کے مسائل کا حل بھی فراہم نہیں کرتیں۔
فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین وحید احمد نے کہا کہ اسی نوعیت کے مسائل پھلوں اور سبزیوں کے برآمد کنندگان کو بھی درپیش ہیں لہٰذا تمام برآمدی شعبوں کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی اور غیر جانبدار معاونت ناگزیر ہے۔
سیکریٹری تجارت جو بورڈ کے نائب چیئرمین بھی ہیں، نے اراکین کو آگاہ کیا کہ نومبر 2025 میں وزیرِاعظم نے وزارتِ تجارت اور متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی تھی کہ چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے ساتھ مشاورت کے ذریعے برآمدات کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال پاکستان کی برآمدات میں مجموعی کمی واقع ہوئی ہے، جس میں چاول کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ چاول کی برآمدات میں تقریباً 50 فیصد کمی آئی جو 1.4 ارب ڈالر کی مجموعی برآمدی کمی کا قریباً 60 فیصد بنتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم نے ای ڈی ایف کی مالی بحالی سے متعلق خدشات کے پیش نظر آئندہ مالی سال میں فنانس ڈویژن کو 20 ارب روپے کی وفاقی گرانٹ فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
وزارتِ تجارت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل (ای ڈی جی) محمد اشرف نے بتایا کہ رائس ایکسپورٹرز کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا وزارت کے ایگرو ونگ کے ساتھ شیئر کیا گیا، جس کی بنیاد پر ایک پریزنٹیشن تیار کی گئی۔ ان کے مطابق چاول کی پیداوار 9.02 ملین میٹرک ٹن سے بڑھ کر 9.34 ملین میٹرک ٹن ہو گئی ہے، جبکہ قابلِ برآمد سرپلس میں باسمتی چاول 0.6 ملین میٹرک ٹن اور نان باسمتی چاول 3.5 ملین میٹرک ٹن شامل ہیں۔
رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران برآمدی حجم 29 لاکھ میٹرک ٹن سے کم ہو کر 18 لاکھ میٹرک ٹن رہ گیا جبکہ فی میٹرک ٹن 100 سے 150 ڈالر کا اوسط قیمتی فرق بدستور مسابقت کو متاثر کر رہا ہے۔
انہوں نے اندازہ لگایا کہ چھ ماہ کے لیے اسکیم پر تقریباً 30 ارب روپے درکار ہوں گے۔
بورڈ چیئرمین کی حیثیت سے وزیرِ تجارت نے وزیرِ اعظم کی ہدایات کی روشنی میں اس تجویز کی منظوری کی سفارش کی اور یقین دہانی کرائی کہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کی مالی مضبوطی متاثر نہیں ہو گی۔
سیکرٹری کامرس نے اس اسکیم کی منظوری کے ساتھ یہ تجویز بھی دی کہ 90 دنوں کے بعد اس کا جائزہ لیا جائے تاکہ رسد، طلب اور قیمتوں کے رجحانات پر اس کے اثرات کا تعین کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ ہدایت بھی کی کہ اسٹیٹ بینک، پاکستان سنگل ونڈو اور کسٹمز کے ساتھ مشاورت کی جائے تاکہ ایک ہفتے کے اندر اس اسکیم کو ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کے ذریعے شروع کیا جا سکے، تاکہ غلط بیانی اور فنڈز کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
تفصیلی غور و خوض کے بعد بورڈ نے 30 جون 2026 تک ایف او بی ویلیو کی بنیاد پر نان باسمتی چاول کے لیے 3 فیصد اور باسمتی چاول کے لیے 9 فیصد کی شرح سے 15 ارب روپے کی فنڈنگ کی منظوری دے دی۔
مزید برآں، بورڈ نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے سالانہ بجٹ کو بڑھا کر 27.3 ارب روپے کرنے کی بھی منظوری دی۔ اس کے ساتھ ہی سخت نگرانی، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام اور 90 روزہ کارکردگی کے لازمی جائزے کی شرط بھی عائد کی گئی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments