BR100 Increased By (0.81%)
BR30 Increased By (1.03%)
KSE100 Increased By (0.54%)
KSE30 Increased By (0.57%)
BAFL 58.80 Increased By ▲ 0.36 (0.62%)
BIPL 25.44 Increased By ▲ 0.24 (0.95%)
BOP 34.40 Increased By ▲ 0.41 (1.21%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.92 Increased By ▲ 0.08 (0.38%)
DGKC 195.51 Increased By ▲ 2.54 (1.32%)
FABL 89.90 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 53.50 Increased By ▲ 0.67 (1.27%)
FFL 18.07 Increased By ▲ 0.12 (0.67%)
GGL 19.36 Increased By ▲ 0.39 (2.06%)
HBL 287.30 Increased By ▲ 1.80 (0.63%)
HUBC 215.60 Increased By ▲ 1.22 (0.57%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.09 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
LOTCHEM 27.85 Decreased By ▼ -0.04 (-0.14%)
MLCF 87.35 Increased By ▲ 0.84 (0.97%)
OGDC 323.24 Increased By ▲ 3.28 (1.03%)
PAEL 40.00 Increased By ▲ 0.58 (1.47%)
PIBTL 17.01 Increased By ▲ 0.34 (2.04%)
PIOC 270.05 Increased By ▲ 3.99 (1.5%)
PPL 230.00 Increased By ▲ 1.82 (0.8%)
PRL 34.90 Increased By ▲ 0.22 (0.63%)
SNGP 99.35 Increased By ▲ 0.17 (0.17%)
SSGC 26.88 Increased By ▲ 0.28 (1.05%)
TELE 8.65 Increased By ▲ 0.37 (4.47%)
TPLP 8.65 Increased By ▲ 0.43 (5.23%)
TRG 69.85 Increased By ▲ 0.14 (0.2%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
مارکٹس

ٹرمپ کے ایران سے متعلق ’’ آرمیڈا ‘‘ کے بیان اور قازقستان میں پیداوار میں تعطل پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ

  • مارچ کے لیے برینٹ کروڈ فیوچرز میں 1.68 ڈالر یا 2.6 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت بڑھ کر 65.74 ڈالر فی بیرل ہو گئی
شائع January 23, 2026 اپ ڈیٹ January 23, 2026 09:56pm

جمعے کے روز تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اس وقت اضافہ ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دھمکیوں کی تجدید کی، جس سے ممکنہ فوجی کارروائی اور خام تیل کی رسد میں خلل کے خدشات پیدا ہو گئے جبکہ قازقستان میں بھی پیداوار متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

مارچ کے لیے برینٹ کروڈ فیوچرز 1408 گرین وچ معیاری وقت تک 1.68 ڈالر یا 2.6 فیصد اضافے کے ساتھ 65.74 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 1.63 ڈالر یا 2.8 فیصد اضافے کے ساتھ 60.99 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔

دونوں بینچ مارکس ہفتہ وار بنیاد پر تقریباً 2.5 فیصد اضافے کی جانب گامزن تھے۔

ہفتے کے اوائل میں بھی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ سے متعلق اقدامات کیے، تاہم جمعرات کو یورپ کے خلاف ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے اور فوجی کارروائی کو مسترد کرنے کے بعد قیمتیں تقریباً 2 فیصد گر گئیں۔

ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ ڈنمارک، نیٹو اور امریکا کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت امریکا کو گرین لینڈ تک “مکمل رسائی” حاصل ہو جائے گی۔

تاہم اسی روز انہوں نے کہا کہ امریکا کی ایک ” آرمیڈا “ ایران کی جانب روانہ ہو رہی ہے، لیکن انہیں امید ہے کہ اسے استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی، جبکہ انہوں نے مظاہرین کے قتل یا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے خلاف تہران کو ایک بار پھر خبردار کیا۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز سمیت جنگی جہاز آئندہ دنوں میں مشرق وسطیٰ پہنچ جائیں گے۔ امریکا نے گزشتہ سال جون میں ایران پر حملے بھی کیے تھے۔

اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق یومیہ تقریباً 32 لاکھ بیرل پیداوار کے ساتھ ایران، سعودی عرب، عراق اور متحدہ عرب امارات کے بعد اوپیک کا چوتھا بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ ایران چین کو خام تیل برآمد کرنے والا بھی ایک بڑا ملک ہے، جو دنیا کا دوسرا بڑا تیل استعمال کرنے والا ملک ہے۔

ادھر شیوران نے بتایا کہ قازقستان کے تنگیز آئل فیلڈ، جو دنیا کے سب سے بڑے تیل کے میدانوں میں سے ایک ہے، میں پیداوار تاحال بحال نہیں ہو سکی۔ شیوران کی قیادت میں کام کرنے والی آپریٹر کمپنی تنگیز شیور آئل نے پیر کو آگ لگنے کے بعد پیداوار بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ واقعہ قازقستان کی تیل کی صنعت کے مسائل میں مزید اضافہ کا باعث بنا، جو پہلے ہی بحیرہ اسود پر واقع اپنی مرکزی برآمدی گزرگاہ پر رکاوٹوں کا شکار ہے، جہاں یوکرینی ڈرون حملوں سے نقصان پہنچا ہے۔

جے پی مورگن نے جمعے کو کہا ہے کہ تنگیز، جو قازقستان کی مجموعی پیداوار کا تقریباً نصف حصہ فراہم کرتا ہے، ممکنہ طور پر پورے مہینے بند رہ سکتا ہے، جبکہ جنوری میں قازقستان کی خام تیل پیداوار اوسطاً صرف 10 سے 11 لاکھ بیرل یومیہ رہنے کا امکان ہے، جو معمول کے تقریباً 18 لاکھ بیرل یومیہ کی سطح سے خاصی کم ہے۔

Comments

200 حروف