پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کی تنخواہوں میں فروری سے اضافے کا امکان
- تنخواہوں میں اضافے کا اطلاق وزارتِ خزانہ کی منظوری کے بعد ہوگا،حکام
تقریباً 15 سال کے طویل انتظار کے بعد حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کی تنخواہوں پر نظرثانی اور ان میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں سرکاری شعبے کے موجودہ پے اسکیلز کے برابر لایا جا سکے، یہ بات باوثوق ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتائی۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ صنعت و پیداوار اور پاکستان اسٹیل ملز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اصولی طور پر اسٹیل ملز کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی سفارشات پر اتفاق کرتے ہوئے ان کی منظوری دے دی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں اضافے کا اطلاق وزارتِ خزانہ کی منظوری کے بعد ہوگا جسے بعد ازاں وفاقی کابینہ کو بھیجا جائے گا اور قوی امکان ہے کہ فروری 2026 میں اسٹیل ملز کے ملازمین کو نظرثانی شدہ تنخواہیں ملنا شروع ہو جائیں گی جو کہ 2011 سے رکی ہوئی تھیں۔
پاکستان اسٹیل ملز میں اس وقت ملازمین کی کل تعداد 950 ہے جو کبھی 17 ہزار کے لگ بھگ ہوا کرتی تھی۔ اب اسٹیل ملز کے ملازمین کی تنخواہوں کو دیگر سرکاری اداروں کے برابر لانے سے مجموعی طور پر ایک ارب روپے کا مالی بوجھ پڑے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں یہ اضافہ موجودہ تنخواہوں پر لاگو ہوگا کیونکہ ملازمین کو گزشتہ 15 سالوں کے بقایاجات نہیں ملیں گے۔ حکام نے مزید بتایا کہ حکومت مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ذریعے اسٹیل ملز کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے ایڈوانس مرحلے میں پہنچ چکی ہے تاہم اس کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments
Comments are closed.