BR100 Increased By (0.29%)
BR30 Increased By (0.37%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.20 Increased By ▲ 0.46 (0.81%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.69 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.61 Increased By ▲ 0.80 (8.15%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 209.90 Increased By ▲ 2.03 (0.98%)
FABL 98.95 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.46 Decreased By ▼ -0.22 (-1.32%)
GGL 23.82 Increased By ▲ 0.25 (1.06%)
HBL 302.42 Decreased By ▼ -1.97 (-0.65%)
HUBC 218.94 Increased By ▲ 0.83 (0.38%)
HUMNL 10.54 Decreased By ▼ -0.12 (-1.13%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.07 (-0.95%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.54 (1.86%)
MLCF 96.36 Increased By ▲ 0.86 (0.9%)
OGDC 318.22 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.31 (1.88%)
PIOC 296.62 Increased By ▲ 16.61 (5.93%)
PPL 220.17 Increased By ▲ 0.43 (0.2%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.13 Decreased By ▼ -1.36 (-1.27%)
SSGC 29.14 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.51 Increased By ▲ 0.41 (3.39%)
TRG 60.22 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ زیرِ غور ہے، رضا حیات

  • تینوں ممالک اس پر غور و خوض کر رہے ہیں اور یہ معاہدہ گزشتہ 10 ماہ سے زیرِ بحث ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کے وزیرِ دفاعی پیداوار نے کہا ہے کہ تقریباً ایک سال تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ایک مجوزہ دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کر لیا ہے، جو گزشتہ دو برسوں میں خطے میں تشدد کے کسی ممکنہ بھڑکاؤ کے مقابلے کے لیے ایک حفاظتی انتظام کی کوشش کا اشارہ دیتا ہے۔

وزیرِ دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے بدھ کے روز رائٹرز کو بتایا کہ تین علاقائی طاقتوں کے درمیان یہ ممکنہ معاہدہ گزشتہ سال اعلان کیے گئے دوطرفہ سعودی پاکستانی معاہدے سے الگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تینوں ریاستوں کے درمیان مکمل اتفاقِ رائے ضروری ہے۔

ایک انٹرویو میں رضا حیات ہراج نے کہا ہے کہ ” پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سہ فریقی معاہدہ پہلے ہی زیرِ غور ہے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”معاہدے کا مسودہ ہمارے پاس موجود ہے۔ یہی مسودہ سعودی عرب کے پاس بھی ہے اور ترکی کے پاس بھی۔ تینوں ممالک اس پر غور و خوض کر رہے ہیں، اور یہ معاہدہ گزشتہ 10 ماہ سے زیرِ بحث ہے۔“

جمعرات کو استنبول میں ایک پریس کانفرنس کے دوران، تینوں فریقوں کے درمیان مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس پر سوال کے جواب میں ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ بات چیت ضرور ہوئی ہے، تاہم اب تک کسی معاہدے پر دستخط نہیں کیے گئے۔

فیدان نے کہا کہ خطے میں بداعتمادی پر قابو پانے کے لیے وسیع تر علاقائی تعاون اور اعتماد کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی بداعتمادی ایسے ” خلا اور مسائل“ کو جنم دیتی ہے جن کے نتیجے میں بیرونی بالادست قوتیں ابھرتی ہیں، یا دہشت گردی کے باعث جنگ اور عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔

فیدان نے کہا کہ ” ان تمام عوامل کے بعد ہمارے پاس ایک تجویز یہ ہے کہ تمام علاقائی ممالک سلامتی کے معاملے پر تعاون کے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے لیے اکٹھے ہوں۔“
انہوں نے مزید کہا کہ اگر متعلقہ ممالک “ایک دوسرے پر اعتماد کریں” تو علاقائی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ” اس وقت ملاقاتیں اور بات چیت جاری ہے، لیکن ابھی کسی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے۔ ہمارے صدر (طیب اردوان) کا وژن ایک ایسے جامع پلیٹ فارم کا ہے جو وسیع تر اور بڑی سطح پر تعاون اور استحکام کو فروغ دے،“ تاہم انہوں نے براہِ راست پاکستان یا سعودی عرب کا نام نہیں لیا۔

Comments

Comments are closed.