جنریشن زی اور ابتدائی عمر کا بحران
- جو طریقے ہمارے لیے کارآمد رہے، وہ ان کے لیے موثر نہیں ہوں گے۔ جنریشن زی ایک بالکل مختلف نسل ہے۔ ہمیں ان کی علمیت اور صلاحیتوں کو سمجھنے کے لیے اپنے علم اور تجربے کو پسِ پشت ڈالنا ہوگا
درمیانی عمر کا بحران، زندگی کے گزرتے جانے کا احساس، ذمہ داریاں، بوجھ اور یکسانیت — یہ سب مانوس اصطلاحات ہیں۔ عموماً چالیس کی دہائی میں داخل افراد اپنی زندگی سے عدم اطمینان محسوس کرنے لگتے ہیں۔
خاندانی دباؤ، بڑھتی عمر کے مسائل اور خود کے لیے وقت کی کمی مل کر انسان کو ایک ایسی کیفیت میں دھکیل دیتی ہیں جہاں وہ زندہ تو ہوتا ہے مگر جینے کا احساس باقی نہیں رہتا۔ ایسے بیشتر افراد اپنی بیس کی دہائی کی زندگی کو یاد کرتے اور اسی کے لیے ترستے ہیں۔ مگر ٹھہریے! اب ہمارے سامنے ایک نیا رجحان ہے — ’’زندگی کے ابتدائی دور کا بحران‘‘۔
2026 تک، بیس کی دہائی میں داخل جنریشن زی کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہوگی۔ یہی وہ دور سمجھا جاتا تھا جو زندگی کا بہترین زمانہ ہونا چاہیے تھا۔
لیکن ایک لمحہ ٹھہریے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنریشن زی ’’زندگی کے ابتدائی دور کے بحران‘‘ سے دوچار ہے۔ جنریشن زی کے بہت سے افراد اب بیس کی دہائی میں داخل ہو چکے ہیں اور ان کا سفر آسان نہیں رہا۔ ان کا لڑکپن بےفکری کا زمانہ نہیں تھا۔ خوف کا ایک مستقل سایہ ان پر منڈلاتا رہا۔ یہ آزادانہ گھومنے پھرنے اور بےخوف جینے کا دور نہیں تھا بلکہ گھروں میں رہنے، جلدی واپس آنے اور تفریح کے بجائے احتیاط برتنے کا زمانہ تھا۔
ذرا تصور کیجیے، اگر آپ کی پیدائش 1997 سے 2012 کے درمیان ہوئی ہو۔ آپ کے بچپن نے 2001 میں نائن الیون کے اثرات محسوس کیے۔ دنیا پر خوف کا غلبہ دیکھنے کو ملا۔ پاکستان ایک سیکیورٹی اسٹیٹ بنتا جا رہا تھا، پارکوں اور عوامی مقامات پر بم دھماکے ہو رہے تھے۔ اس ماحول نے ان بچوں کے بچپن کو محدود کر دیا۔ جب وہ نوجوانی میں داخل ہوئے تو خوشی اور تفریح پر دہشت کا سایہ پہلے سے موجود تھا۔
موسیقی کے کنسرٹس، فٹ بال میچز اور دنیا بھر کی تفریحی سرگرمیاں دہشت گردی کا نشانہ بنتی رہیں۔ یہ نسل شام، افغانستان، یوکرین اور اب وینزویلا کی جنگوں کے دور میں پلی بڑھی۔ انہوں نے 2007 کا عالمی معاشی بحران بھی دیکھا اور موجودہ طویل معاشی جمود بھی۔ اس کے بعد کووڈ کی مہلک وبا کا سامنا کیا۔ یہ سب کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ شاید یہی وہ عوامل ہیں جو قبل از وقت ’’زندگی کے ابتدائی دور کے بحران‘‘ کی وضاحت کرتے ہیں۔
’’زندگی کے ابتدائی دور کا بحران‘‘ عموماً بیس کی دہائی کے وسط سے تیس کی دہائی کے آغاز تک کا وہ مرحلہ ہوتا ہے جس میں انسان خود احتسابی اور باطنی سوالات سے دوچار ہوتا ہے۔ شناخت، مقصد اور مستقبل کے حوالے سے بےیقینی محسوس کی جاتی ہے۔ اس دوران بےچینی، خود پر شک، مایوسی، کم اعتمادی، اضطراب اور افسردگی جیسے احساسات عام ہوتے ہیں۔ آج کل نوجوانوں میں نظر آنے والی اچانک کسی سمت کے بغیر صورتحال ایسے نقصان یا واقعے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے، جیسے نوکری کا ختم ہو جانا، رومانوی تعلق کا ٹوٹنا، کسی نئے شہر میں منتقلی یا کسی عزیز کی وفات۔ آئیے پاکستانی جنریشن زی اور ان کے محرکات کا جائزہ لیتے ہیں:
بہتری کی تلاش میں فرار — جنریشن زی حد سے زیادہ باخبر نسل ہے۔ ڈیجیٹل نیٹو ہونے کے باعث تلاش اور تحقیق ان کی فطرت میں شامل ہے۔ جس خوف زدہ ماحول میں وہ پروان چڑھے، اس نے انہیں متاثر کیا اور اب ملک میں محدود روزگار کے مواقع بھی ان کے لیے باعث تشویش ہیں۔ ان کی تکنیکی مہارت انہیں فوری تقابل پر مجبور کرتی ہے۔ ان کے اکثر ہم عمر، جو ملازمتوں میں ہیں، مطمئن نظر نہیں آتے۔
آئی آر آئی ایس( آئرس) کمیونیکیشنز کی ایک حالیہ تحقیق ’’ڈی کنسٹرکٹنگ جنریشن زی‘‘ کے مطابق 62 فیصد جنریشن زی کا خیال ہے کہ معاشی حالات خراب ہیں اور کیریئر میں ترقی اور استحکام کے محدود مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں ملازمت اور صلاحیت کا درست ملاپ ایک نایاب بات ہے۔ یہ عدم مطابقت انہیں بیرون ملک مواقع تلاش کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ یہی عوامل حالیہ برسوں میں پاکستان میں برین ڈرین کی بلند ترین سطح کا سبب بنے ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای ) کے 2022 اور 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی بیرون ملک ہجرت میں 26.6 فیصد اضافہ ہوا۔ جنریشن زی ایک محب وطن نسل ہے اور یہ فیصلہ وہ مجبوری کے تحت کر رہی ہے، کیونکہ ملک میں مواقع امید افزا نہیں۔ کیریئر کی یہ ابتدائی اور ناپسندیدہ تبدیلی ذہنی دباؤ میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ اب بیرون ملک مواقع بھی پہلے جیسے پرکشش نہیں رہے۔ مغربی معیشتوں کی زوال پذیری کے باعث بہت سے نوجوانوں کے لیے بیرون ملک بسنا ایک نیا صدمہ بن چکا ہے، جو ’’زندگی کے ابتدائی دور کے بحران‘‘ کو مزید گہرا کرتا ہے۔
مقصد اور عمل کا تضاد — جنریشن زی مقصد کے بحران سے دوچار ہے۔ وہ نوجوان، باصلاحیت اور باشعور ہیں مگر بےچین بھی۔ وہ بامقصد ملازمت، تعلقات اور زندگی چاہتے ہیں، مگر اس کی تلاش کا عملی عمل انہیں انتہائی کٹھن محسوس ہوتا ہے۔ ان کی خواہشات کی دنیا اور عملی حقیقت کے درمیان فاصلہ ایک اندرونی خلا پیدا کرتا ہے، جو مایوسی اور لاتعلقی کو جنم دیتا ہے۔ یہی داخلی کشمکش شناخت کے بحران اور مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کو جنم دیتی ہے۔
ذہنی صحت کا چیلنج — تقریباً 42 فیصد جنریشن زی نے اضطراب، ذہنی تھکن، ناامیدی اور افسردگی کا اعتراف کیا ہے۔ لاہور میں حالیہ دنوں میں دو یونیورسٹی طلبہ کی خودکشی کی کوششیں نوجوانوں کی ذہنی حالت کی افسوسناک عکاس ہیں۔ غیر محفوظ اور گھٹن زدہ ماحول میں پروان چڑھنے کے باعث ان کی زندگی کا سہارا سوشل میڈیا بن چکا ہے۔ اگرچہ سوشل میڈیا معلومات فراہم کرتا ہے، مگر یہ دباؤ بھی پیدا کرتا ہے۔ ائی آر آئی ایس کی تحقیق کے مطابق جنریشن زی میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پلیٹ فارمز انسٹاگرام (42 فیصد) اور یوٹیوب (20 فیصد) ہیں۔ متعدد مطالعات کے مطابق یہ پلیٹ فارمز تقابلی ثقافت اور فومو (کچھ چھوٹ جانے کا خوف) کو فروغ دیتے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز کی فلٹر شدہ دنیا نوجوانوں میں احساسِ کمتری اور بےقدری کو جنم دیتی ہے، جو جذباتی اذیت اور افسردگی کا باعث بنتی ہے۔
جنریشن زی بے پناہ صلاحیتوں کا خزانہ ہے۔ انہیں ناہموار یا ناکارہ قرار دینا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ ہمارے پاس موجود ذہین انسانی وسائل کے ایک بڑے حصے کا ضیاع بھی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کیا جائے:
ڈگری کے بجائے صلاحیت پر بھرتی — اداروں کو اپنا زاویۂ نظر بدلنے کی ضرورت ہے۔ بھرتی کے طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے۔ صرف ڈگریوں کے بجائے جذبے، صلاحیت اور مقصد کو ترجیح دی جائے۔ وہ جنریشن زی جو کسی اعلیٰ مقصد کے تحت منسلک ہوں، اپنے سینئر ساتھیوں سے بھی بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
قیادت کی صلاحیت کو فروغ دینا — اس وقت کارپوریٹ اداروں کی قیادت اس نسل کو مسترد کرنے میں مصروف نظر آتی ہے۔ رہنماؤں کی ازسرِنو تربیت اور مہارت سازی کی ضرورت ہے تاکہ وہ جنریشن زی کو سمجھ سکیں۔ ریورس مینٹورنگ کے نظام متعارف کرائے جائیں اور محکموں کے اندر مکالماتی حلقے قائم کیے جائیں تاکہ فاصلوں کو کم کیا جا سکے۔
ذہنی فلاح و بہبود پر توجہ — سب سے اہم معاملہ نوجوانوں کی ذہنی صحت کا خیال رکھنا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تعلیمی اداروں میں ذہنی مشاورت اور معاونت کو لازمی قرار دے۔ اداروں کو بھی چاہیے کہ اپنے پینلز میں نفسیات اور انسانی رویوں کو جانچنے اور پرکھنے کے ماہرین شامل کریں تاکہ ملازمین سے مسلسل رابطہ رکھا جا سکے، نہ کہ اس انتظار میں رہا جائے کہ ملازم خود ہمت کر کے مدد طلب کرے۔
جو طریقے ہمارے لیے کارآمد رہے، وہ ان کے لیے موثر نہیں ہوں گے۔ جنریشن زی ایک بالکل مختلف نسل ہے۔ ہمیں ان کی علمیت اور صلاحیتوں کو سمجھنے کے لیے اپنے علم اور تجربے کو پسِ پشت ڈالنا ہوگا۔ مثال کے طور پر، رابندر ناتھ ٹیگور کا مشہور قول ہے کہ “ کسی بچے کو اپنی معلومات تک محدود نہ رکھیں، کیونکہ وہ کسی اور زمانے میں پیدا ہوا ہے۔“
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026


Comments
Comments are closed.