زندگی جینے کے خرچوں کا بحران: کیا پاکستانی بجلی بل کی ادائیگی کے لئے اپنا پیٹ کاٹ رہے ہیں؟
- گھریلو خرچ میں خوراک کا حصہ 20 سال میں 43 فیصد سے گھٹ کر 37 فیصد ہو گیا
کیا پاکستانی بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے کم کھا رہے ہیں؟ گزشتہ 20 برسوں میں گھریلو اخراجات کے رجحان کا موازنہ ایک تشویشناک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ جیسے جیسے بجلی، گیس اور رہائش کے اخراجات بڑھے ہیں، لگتا ہے کہ پاکستانی گھرانے اپنے بجٹ کو خوراک اور دیگر ضروریات سے ہٹا کر ان اخراجات کی طرف مرکوز کر رہے ہیں۔
گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال آئی گیلانی کے شیئر کردہ اعداد و شمار نے پاکستان میں زندگی گزارنے کے اخراجات کے بحران کی عکاسی کی ہے، جو صرف کم آمدنی کی وجہ سے نہیں بلکہ پالیسی کی وجہ سے بڑھنے والے مقررہ اخراجات کی وجہ سے بھی ہے۔
بلال گیلانی نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ ”پاکستان کے گھریلو اخراجات کے گزشتہ 20 برسوں (2005–2025) کے موازنہ سے ایک ساختی تبدیلی سامنے آتی ہے جس کے فلاحی اور پالیسی پر سنجیدہ اثرات ہیں،“ اور ساتھ ہی گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستانی گھریلو مصرف کے پیٹرن (رجحان) کی ایک جدول شیئر کی ہے۔
یہ جدول، جو حکومت کے حال ہی میں جاری کردہ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے ( ایچ آئی ای ایس) 2024–25 سے ماخوذ ہے، تشویشناک اشارے ظاہر کرتی ہے۔

بلال گیلانی نے کہا کہ ” سب سے تشویشناک تبدیلی خوراک میں ہے۔ گھریلو اخراجات میں اس کا حصہ 43 فیصد سے کم ہو کر 37 فیصد رہ گیا ہے۔“
انہوں نے نشاندہی کی کہ کمی اس لیے نہیں کہ خوراک سستی ہوئی یا کم اہم ہو گئی، بلکہ اس لیے کہ ” گھرانے اپنے اخراجات کو کم کر رہے ہیں، ایک ایسا رجحان جو بچوں اور خواتین میں غذائی قلت کو فروغ دے سکتا ہے۔“
بلال گیلانی نے کہا کہ ” پاکستان میں زندگی گزارنے کے اخراجات کا مسئلہ اب صرف آمدنی کی ترقی تک محدود نہیں رہا۔ مسئلہ یہ ہے کہ عوامی قیمتیں، ٹیکس اور سبسڈی کے فیصلے گھریلو بجٹ کو کس طرح تشکیل دیتے ہیں، اکثر ایسے طریقوں سے جو پہلے غذائیت پر دباؤ ڈال دیتے ہیں۔“
انہوں نے کہا کہ اسی دوران، رہائش اور یوٹیلٹی کے اخراجات گھریلو بجٹ کے 15 فیصد سے بڑھ کر 25 فیصد ہو گئے ہیں، جو تمام زمروں میں سب سے زیادہ اضافہ ہے۔
بلال گیلانی نے بتایا کہ یہ اضافہ زیادہ تر بجلی اور گیس کے بل، کرایہ اور متعلقہ چارجز کی وجہ سے ہے،” جو گھرانے کی اپنی پسند یا مرضی کے بجائے زیادہ تر ٹیکس، انتظامی قیمتوں اور سبسڈی کی واپسی سے تشکیل پاتے ہیں۔“
گیلانی نے کہا کہ ” یعنی گھرانے خوراک کے اخراجات کو کم کر کے مقررہ، پالیسی سے چلنے والے اخراجات ادا کر رہے ہیں۔“
مزید برآں، نقل و حمل اور رابطے کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں، جو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور کنیکٹوٹی کی بڑھتی ضرورت کی عکاسی کرتے ہیں۔
دوسری طرف، تعلیم، صحت اور تفریح کے اخراجات مستحکم ہیں،” جو ظاہر کرتا ہے کہ بڑھتے ہوئے مقررہ اخراجات انسانی سرمایہ اور معیارِ زندگی کے اخراجات کو محدود کر رہے ہیں۔“
حکومت نے جمعرات کو پہلی بار مکمل ڈیجیٹل ایچ آئی ای ایس 2024–25 جاری کیا ہے، جو ایک سنگ میل کے طور پر تعلیم، انٹرنیٹ تک رسائی اور ویکسینیشن میں نمایاں بہتری ظاہر کرتا ہے اور پالیسی سازوں کو اقتصادی و سماجی منصوبہ بندی کے لیے بے مثال شواہد فراہم کرتا ہے۔


Comments
Comments are closed.