اسٹنگ کی نقل بنانا مہنگا پڑ گیا، میزان بیوریجز پر 150 ملین روپے کا جرمانہ عائد
- میزان ب نے کیس کے حقائق پر جواب دینے کے بجائے بار بار کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا,سی سی پی
کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے میزان بیوریجز (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر 15 کروڑ (150 ملین) روپے جرمانہ عائد کردیا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ کمپنی نے پیپسی کو کے انرجی ڈرنک اسٹنگ کی پیکیجنگ اور ٹریڈ ڈریس (ظاہری شکل و صورت) کی نقل تیار کی تھی جو کہ کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 10 کے تحت دھوکہ دہی پر مبنی مارکیٹنگ کے زمرے میں آتا ہے۔
جمعہ کو جاری ہونے والے فیصلے کے مطابق سی سی پی نے قرار دیا کہ میزان کے اسٹورم انرجی ڈرنک نے دھوکہ دہی کے ذریعے اسٹنگ کی مجموعی ظاہری شکل، انداز، رنگوں کی ترتیب، بوتل کے ڈیزائن اور برانڈنگ کے عناصر کی نقل کی جس سے خریداری کے وقت صارفین کے لیے الجھن یا غلط فہمی پیدا ہونے کا قوی امکان موجود تھا۔
اس طرح کا طرزِ عمل پیراسیٹک کاپینگ (دوسرے کے برانڈ سے ناجائز فائدہ اٹھانے والی نقل) کے مترادف ہے اور یہ دھوکہ دہی پر مبنی مارکیٹنگ ہے جس کی پاکستان کے کمپٹیشن قانون کے تحت ممانعت ہے۔
سی سی پی کے مطابق یہ کیس 2018 کا ہے جب پیپسی کو نے ایک شکایت درج کرائی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ میزان کے اسٹورم انرجی ڈرنک کو اسٹنگ کی نقل کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ پیپسی کو کی ساکھ سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
سی سی پی کا کہنا ہے کہ میزان بیوریجز نے کیس کے حقائق پر جواب دینے کے بجائے بار بار کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا اور طویل قانونی چارہ جوئی کا آغاز کردیا۔ میزان نے 2018 اور 2021 میں لاہور ہائی کورٹ سے حکمِ امتناع (اسٹے آرڈرز) حاصل کیے جس کی وجہ سے انکوائری میں کئی سال کی تاخیر ہوئی۔
جون 2024 میں لاہور ہائی کورٹ نے میزان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سی سی پی کے اختیارات کو برقرار رکھا اور فیصلہ سنایا کہ شوکاز نوٹسز کو ابتدائی مراحل میں چیلنج کرنا قابلِ سماعت نہیں ہے۔
اگرچہ میزان کے پاس اسٹورم کا رجسٹرڈ ٹریڈ مارک موجود تھا، لیکن سی سی پی نے فیصلہ سنایا کہ ٹریڈ مارک کی رجسٹریشن کسی کمپنی کو کمپٹیشن قانون سے استثنیٰ فراہم نہیں کرتی، خاص طور پر وہاں جہاں صارفین کو دھوکہ دینے اور ’پاسنگ آف‘ (دوسرے کے برانڈ کے نام پر مال بیچنا) کے شواہد ثابت ہو چکے ہوں۔


Comments