آسٹریلیا کو ایم سی جی میں سنسنی خیز دن کے بعد انگلینڈ پر 46 رنز کی برتری
- ایک ہی دن میں 20 وکٹیں گر گئیں، ایشز ٹیسٹ میں بیٹنگ لائنیں دباؤ کا شکار
ایشز سیریز کے چوتھے ٹیسٹ کے پہلے روز میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں غیر معمولی سنسنی خیز کھیل دیکھنے میں آیا، جہاں ایک ہی دن میں 20 وکٹیں گر گئیں۔ آسٹریلیا کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 152 رنز پر آؤٹ ہو گئی، جس کے جواب میں انگلینڈ کی پوری ٹیم 110 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی، یوں میچ انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے سبز پچ پر ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا، جس کا فائدہ انگلش فاسٹ بولرز نے بھرپور انداز میں اٹھایا۔ ابر آلود موسم میں 94,199 شائقین کے سامنے آسٹریلوی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی۔ یہ ایم سی جی کی تاریخ کا سب سے بڑا کرکٹ مجمع تھا، جس نے 2015 ورلڈ کپ فائنل کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔
جوش ٹنگ نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں 45 رنز کے عوض حاصل کیں، تاہم انگلینڈ کی بیٹنگ اس سے بھی زیادہ ناکام رہی۔ انگلش ٹیم 16 رنز پر چار وکٹیں گنوا بیٹھی اور سنبھل نہ سکی۔ مائیکل نیسر اور مچل اسٹارک نے خطرناک بولنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کو دباؤ میں رکھا۔
ہیری بروک نے 41 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی، مگر اسکاٹ بولینڈ نے یکے بعد دیگرے وکٹیں حاصل کر کے انگلینڈ کی کمر توڑ دی۔ آسٹریلیا نے دن کے اختتام پر بغیر کسی نقصان کے 4 رنز بنا لیے اور 46 رنز کی برتری حاصل کر لی۔
دوسری جانب انگلینڈ کے اوپنر بین ڈکٹ ایک بار پھر ناکام رہے اور صرف 2 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے، جس سے ان پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔ میچ کے بعد جوش ٹنگ اور مائیکل نیسر دونوں نے اعتراف کیا کہ پچ پر بولرز کو واضح برتری حاصل رہی۔
آسٹریلیا اس سے قبل ایشز سیریز برقرار رکھ چکا ہے، تاہم میلبورن ٹیسٹ کا پہلا دن ثابت کرتا ہے کہ مقابلہ ابھی ختم نہیں ہوا اور دونوں ٹیموں کے لیے اگلا دن انتہائی اہم ہوگا۔


Comments
Comments are closed.