یمن کے گروپ کو قابض صوبوں سے اپنی افواج واپس بلانی چاہئیں ، سعودی عرب
- ایس ٹی ایس عوامی مفاد کو ترجیح ، کشیدگی ختم اور فوجی انخلا کرکے صورتحال بہتر بنائے ، سعودی مطالبہ
سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ اب بھی پُرامید ہے کہ یمن کی سب سے بڑی جنوبی علیحدگی پسند جماعت حالیہ کشیدگی کا خاتمہ کرے گی، جس کے نتیجے میں اسے ملک کے جنوبی حصے میں وسیع کنٹرول حاصل ہو گیا ہے۔
اس پیش رفت نے ایک ایسے ملک میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے جو ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے دو انتظامیہ میں منقسم ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں سعودی عرب نے یمن کی سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کی جانب سے کی جانے والی فوجی کارروائیوں کو جن کے ذریعے گروپ نے رواں ماہ کے آغاز میں مشرقی صوبوں حضرموت اور المہرا پر قبضہ کیا ہے غیر جواز یافتہ کشیدگی قرار دیا ہے ۔
بیان میں کہا گیا کہ مملکت کو امید ہے کہ عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے گی، جس کے تحت سدرن ٹرانزیشنل کونسل کشیدگی کا خاتمہ کرے گی اور اپنی افواج کو دونوں صوبوں سے فوری اور منظم انداز میں واپس بلائے گی۔
بیان کے مطابق کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات پر بات چیت کی غرض سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا مشترکہ فوجی وفد 12 دسمبر کو عدن پہنچا تھا۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یہ ٹیمیں اس لیے بھیجی گئیں ، تاکہ ضروری انتظامات کیے جا سکیں اور ایس ٹی سی کی افواج کو دونوں صوبوں سے باہر اپنی سابقہ پوزیشنوں پر واپس لایا جا سکے۔


Comments
Comments are closed.