BR100 Increased By (1.53%)
BR30 Increased By (1.52%)
KSE100 Increased By (1.35%)
KSE30 Increased By (1.44%)
BAFL 57.65 Increased By ▲ 0.45 (0.79%)
BIPL 27.35 Increased By ▲ 0.46 (1.71%)
BOP 34.52 Increased By ▲ 0.83 (2.46%)
CNERGY 10.90 Increased By ▲ 0.29 (2.73%)
DFML 18.41 Increased By ▲ 0.36 (1.99%)
DGKC 211.50 Increased By ▲ 1.60 (0.76%)
FABL 101.50 Increased By ▲ 2.55 (2.58%)
FCCL 54.30 Increased By ▲ 0.56 (1.04%)
FFL 16.82 Increased By ▲ 0.36 (2.19%)
GGL 24.10 Increased By ▲ 0.28 (1.18%)
HBL 305.40 Increased By ▲ 2.98 (0.99%)
HUBC 222.00 Increased By ▲ 3.06 (1.4%)
HUMNL 10.65 Increased By ▲ 0.11 (1.04%)
KEL 7.43 Increased By ▲ 0.15 (2.06%)
LOTCHEM 30.02 Increased By ▲ 0.37 (1.25%)
MLCF 97.45 Increased By ▲ 1.09 (1.13%)
OGDC 321.25 Increased By ▲ 3.03 (0.95%)
PAEL 42.54 Increased By ▲ 0.77 (1.84%)
PIBTL 17.16 Increased By ▲ 0.35 (2.08%)
PIOC 302.99 Increased By ▲ 6.37 (2.15%)
PPL 223.78 Increased By ▲ 3.61 (1.64%)
PRL 52.84 Increased By ▲ 3.79 (7.73%)
SNGP 108.16 Increased By ▲ 2.03 (1.91%)
SSGC 29.65 Increased By ▲ 0.51 (1.75%)
TELE 8.96 Increased By ▲ 0.14 (1.59%)
TPLP 12.86 Increased By ▲ 0.35 (2.8%)
TRG 60.60 Increased By ▲ 0.38 (0.63%)
UNITY 10.17 Increased By ▲ 0.15 (1.5%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)
دنیا

فوکوشیما حادثے کے 15 سال بعد جاپان دنیا کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کو دوبارہ چلانے کی تیاری میں مصروف

  • فوکوشیما سانحے کے بعد جاپان اب تک قابلِ استعمال رہنے والے 33 میں سے 14 جوہری ری ایکٹر دوبارہ فعال کر چکا ہے، کیونکہ ملک درآمدی فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے
شائع اپ ڈیٹ

جاپان نے دنیا کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کو دوبارہ چلانے کی اجازت دینے کا آخری مرحلہ طے کر لیا، جب نیگاٹا کے علاقے نے اس کی بحالی کے حق میں ووٹ دے دیا۔ یہ فیصلہ فوکوشیما جوہری حادثے کے تقریباً 15 سال بعد جاپان کی جوہری توانائی کی طرف واپسی میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

کاشیوازاکی-کاریوا جوہری پلانٹ، جو ٹوکیو سے تقریباً 220 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے، ان 54 ری ایکٹرز میں شامل تھا جنہیں 2011 کے زلزلے اور سونامی کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔ اس سانحے کے بعد جاپان اب تک قابلِ استعمال 33 میں سے 14 ری ایکٹر دوبارہ شروع کر چکا ہے ،تاکہ درآمدی فوسل ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔

یہ پلانٹ ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی (ٹیپکو) کے زیرِ انتظام ہو گا، جو فوکوشیما پلانٹ بھی چلاتی تھی۔ پیر کے روز نیگاٹا اسمبلی نے گورنر ہیدیئو ہانازومی پر اعتماد کی قرارداد منظور کی، جس کے بعد پلانٹ کی بحالی کی راہ ہموار ہو گئی۔

ووٹنگ سے قبل تقریباً 300 مظاہرین، جن میں زیادہ تر معمر افراد شامل تھے نے پلانٹ کے خلاف احتجاج کیا۔ دوسری جانب ٹیپکو نے یقین دہانی کرائی کہ وہ کسی بھی حادثے کی تکرار نہیں ہونے دے گی، تاہم ایک سرکاری سروے کے مطابق 60 فیصد مقامی آبادی اب بھی بحالی کے حق میں نہیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ جوہری توانائی توانائی کے تحفظ، بڑھتی ہوئی طلب اور کاربن اخراج میں کمی کے اہداف کے لیے ناگزیر ہے، مگر فوکوشیما کے متاثرین اب بھی اس کے خطرات کو نظر انداز کرنے پر آمادہ نہیں۔

Comments

Comments are closed.