BR100 Decreased By (-1.39%)
BR30 Decreased By (-1.72%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 56.74 Decreased By ▼ -0.95 (-1.65%)
BIPL 27.04 Decreased By ▼ -0.38 (-1.39%)
BOP 33.68 Decreased By ▼ -0.51 (-1.49%)
CNERGY 9.81 Increased By ▲ 0.19 (1.98%)
DFML 18.52 Decreased By ▼ -0.11 (-0.59%)
DGKC 207.87 Decreased By ▼ -5.16 (-2.42%)
FABL 98.90 Decreased By ▼ -1.89 (-1.88%)
FCCL 53.52 Decreased By ▼ -0.63 (-1.16%)
FFL 16.68 Decreased By ▼ -0.16 (-0.95%)
GGL 23.57 Decreased By ▼ -0.40 (-1.67%)
HBL 304.39 Decreased By ▼ -4.87 (-1.57%)
HUBC 218.11 Decreased By ▼ -3.42 (-1.54%)
HUMNL 10.66 Decreased By ▼ -0.23 (-2.11%)
KEL 7.35 Decreased By ▼ -0.24 (-3.16%)
LOTCHEM 29.11 Decreased By ▼ -1.32 (-4.34%)
MLCF 95.50 Decreased By ▼ -2.66 (-2.71%)
OGDC 317.94 Decreased By ▼ -5.42 (-1.68%)
PAEL 41.83 Decreased By ▼ -0.42 (-0.99%)
PIBTL 16.50 Decreased By ▼ -0.32 (-1.9%)
PIOC 280.01 Decreased By ▼ -5.95 (-2.08%)
PPL 219.74 Decreased By ▼ -4.99 (-2.22%)
PRL 44.59 Increased By ▲ 2.94 (7.06%)
SNGP 107.49 Decreased By ▼ -2.70 (-2.45%)
SSGC 28.93 Decreased By ▼ -0.38 (-1.3%)
TELE 8.76 Decreased By ▼ -0.23 (-2.56%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.67 (-5.25%)
TRG 60.03 Decreased By ▼ -0.42 (-0.69%)
UNITY 10.11 Decreased By ▼ -0.26 (-2.51%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.04 (-3.15%)
رائے

یہ کس قسم کی جنگ بندی ہے؟

  • ایک ایسی جنگ بندی جس کا طاقتور ظالم نے دن دیہاڑے تمسخر اُڑایا، دھوکہ دیا اور پامال کیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

10 اکتوبر کو نافذ ہونے والی بظاہر ”غزہ جنگ بندی“ کی حقیقی صورت یہ ہے کہ اسے ماننا بہت مشکل اور توڑنا بہت آسان ثابت ہوا ہے ۔ جارح، متکبر اور عناد پر مبنی قابض ریاست اسرائیل جو اپنی فوجی طاقت میں مست ہے نے یہ جنگ بندی درجنوں بار نہیں بلکہ سینکڑوں بار توڑی ہے۔اس نے دوران جنگ اس نازک وقفے کی حرمت کو پامال کیا اور ایک بار پھر معصوم بچوں اور بے بس شہریوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے۔

پھر بھی، کوئی طاقتور ملک ان واضح اور بار بار ہونے والی خلاف ورزیوں پر سوال نہیں اٹھاتا، نہ ہی اس جارح کو سزا دیتا ہے جو ہر بین الاقوامی اصول کو کھلم کھلا توڑ رہا ہے۔

عالمی بے پروائی سے حوصلہ پاتے ہوئے صہیونی جنگجو آگ برسانے میں مصروف ہیں۔ یونیفارم میں موجود یہ توڑ پھوڑ کرنے والے،بڑی عسکری طاقت کے ساتھ پیچھے موت، ملبہ اور معصوموں کے رونے اور چیخوں کو چھوڑ جاتے ہیں۔

انسانیت کے خلاف جرائم حقیقی وقت میں جاری ہیں کیونکہ ایک مکمل قوم کو مٹانے کی بے رحم مہم جاری ہے۔ اسرائیل کی انتہا پسند قیادت کے لیے یہ بظاہر جنگ بندی محض ایک وقتی توقف ہے–

بمباری کے درمیان ایک مختصر وقفہ، کیونکہ ہر معاہدہ، ہر وقفہ، ہر انسانی ریلیف اسرائیل کی فلسطینی خون کی پیاس کے سامنے مذاق اور پامال ہو جاتا ہے۔

منصوبہ بندی کے ساتھ پیشگی نسل کشی بلا روک ٹوک کے جاری ہے۔ تاریخ ایک ظالمانہ طنز پیش کرتی ہے کہ نازی جرمنی کے ”ناپسندیدہ“ لوگ جو خود ظلم و ستم کا شکار تھے آج ایک اور مظلوم قوم پر ناقابل بیان مظالم ڈھا رہے ہیں، جنہوں نے نازی جرائم میں کوئی حصہ نہیں لیا۔

کیا معصوم فلسطینی جنہوں نے نازی جرائم میں حصہ نہیں لیا، اپنی جان، زمین اور مستقبل سے قیمت چکائیں؟ کیا کسی قوم کو ایسے جرائم کی سزا دی جا سکتی ہے جس میں اس کا کوئی حصہ نہیں؟

سوال یہ نہیں کہ یہ خوفناک مظالم کیسے ہو رہے ہیں، بلکہ یہ کہ دنیا انہیں ہونے کیوں دے رہی ہے۔ کب تک سب سے زیادہ دہشت زدہ، محاصرہ شدہ اور ظلم و ستم کا شکار لوگ تابوت اور کفن وصول کرتے رہیں گے، امن کے لمحوں کے بغیر؟ کب تک دنیا ان کے ملبے سے پیاروں کے ٹکڑے جمع کرنے کے بعد جاگے گی؟

دنیا کو سوچنا ہوگا، دنیا مظلوم کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی جو اب ایک طاقتور، فوجی قوت سے بھرپور، ظالم ہاتھوں کے شکنجے میں ہے۔

غزہ کی خون بہتی زمین مکمل اور پائیدار امن کی طالب ہے۔ ثالث قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے درست کہا ہے کہ غزہ جنگ بندی مکمل نہیں اور نہ ہی استحکام آئیگا جب تک اسرائیل مکمل طور پر پیچھے نہ ہٹے۔ فلسطینیوں کو ان کی قدیم زمین سے بے دخل کرنے کی ہر کوشش مسلمانوں بشمول عرب مسلمانوں کی جانب سے مسترد کی گئی ہے۔

اصل امن تبھی ممکن ہے جب ایک بین الاقوامی استحکام فوج (آئی ایس ایف) فوری طور پر ان اسرائیلی دفاعی افواج کی جگہ لے، جو غیر قانونی طورپر فلسطینی علاقوں میں موجود ہے۔عارضی جنگ بندیاں انصاف کا متبادل نہیں۔ دنیا کو فلسطینیوں کے وقار، خودمختاری اور ریاستی حقوق کو تسلیم کرنا ہوگا تبھی مشرق وسطیٰ میں حقیقی امن ممکن ہوسکے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے اس طویل انتظار کی جنگ بندی کی ثالثی کی، کو یقینی بنانا ہوگا کہ یہ جنگ بندی مکمل طور پر اور صحیح معنوں میں نافذ ہو۔ جنگ بندی کو پامال نہیں ہونا چاہیے، بلکہ فلسطینیوں کو حقیقی سکون فراہم کرنا چاہیے ،تاکہ وہ آزاد فضا میں سانس لے سکیں، زخموں پر مرحم رکھ سکیں، اپنی قیادت چنیں اور اپنے امور خود سنبھالیں۔

اگر صدر ٹرمپ واقعی تاریخی امن قائم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اس تباہ شدہ جنگ بندی کو بحال کرنا ہوگا اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کرے، اپنے وعدوں کی پاسداری کرے اور تباہ کاری کی مہم روکے۔ دنیا اب امریکہ سے عملی اور اخلاقی قیادت کی توقع رکھتی ہے۔


Comments

Comments are closed.