لارج اسکیل مینوفیکچرنگ سیکٹر کی بحالی، صنعتی رہنماؤں نے حکومتی دعووں کو چیلنج کردیا
بڑی پیداواری اور برآمدات پر مبنی صنعتوں نے لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) کی پیداوار میں بحالی کے حکومتی دعووں کو چیلنج کردیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اخراجات میں بے پناہ اضافے، طلب میں کمی اور بھاری ٹیکسزکی بدولت صنعتی سرگرمیاں مسلسل سکڑ رہی ہیں۔
صنعتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران 150 سے زائد صنعتی یونٹس بند ہوچکے ہیں جب کہ جو کارخانے اب بھی چل رہے ہیں وہ اپنی نصب شدہ صلاحیت کے بمشکل 50 فیصد پر کام کررہے ہیں۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیئرمین کامران ارشد نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ گیس اور بجلی کے ریکارڈ توڑ نرخ، بلند شرح سود، بھاری ٹیکسز اور ریفنڈز میں تاخیر کے باعث تقریباً 150 ٹیکسٹائل یونٹس بند ہوچکے ہیں۔ ان بندشوں کی وجہ سے پیداوار میں کمی آئی ہے، برآمدات کمزور ہوئی ہیں اور سینکڑوں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔
کامران ارشد نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت مزید مشکلات کی طرف جا رہی ہے ۔ انہوں نے سرکاری اعدادوشمار کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی جانب سے بحالی کی بار بار یقین دہانیوں کے باوجود برآمدات میں کمی اور اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے۔ نومبر 2025 میں ٹیکسٹائل کی برآمدات گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 2.05 فیصد کمی کے ساتھ 1.43 بلین ڈالر رہ گئیں۔ اس مہینے کے دوران مجموعی برآمدات میں 15.35 فیصد کی بڑی کمی واقع ہوئی جبکہ درآمدات میں 5.42 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 2.86 بلین ڈالر تک پہنچ گیا جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 33 فیصد زیادہ ہے۔
اگرچہ رواں مالی سال جولائی تا نومبر ٹیکسٹائل برآمدات معمولی اضافے سے 3.15 فیصد بڑھتے ہوئے 7.85 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، تاہم برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ گمراہ کن ہے۔ فیکٹریوں میں پیداواری صلاحیت کا استعمال بدستور کمزور ہے، منافع کے مارجن انتہائی محدود ہیں اور بہت سی کمپنیاں توانائی کے بلند نرخوں، شرحِ سود اور بھاری ٹیکسز کے بوجھ تلے زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔
پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر جی ایم ای اے) کے سابق چیئرمین اعجاز کھوکھر نے کہا کہ زیادہ تر بڑے پیمانے کی ٹیکسٹائل یونٹس جو کبھی دو شفٹوں میں کام کرتی تھیں، اب صرف ایک شفٹ تک محدود ہوچکی ہیں۔ انہوں نے اپٹما کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 100 سے زائد اسپننگ یونٹس بند ہو چکے ہیں جس کے باعث دھاگے اور کپڑے کی قلت پیدا ہو گئی ہےجو ویلیو ایڈڈ برآمدات کے لیے بنیادی خام مال ہیں۔ کئی بڑے صنعت کاروں نے اپنے ملبوسات (اپیرل) کے شعبے بھی بند کردیے ہیں۔
اعجاز کھوکھر نے خبردار کیا کہ 2026 خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کے لیے مزید مشکل سال ثابت ہوگا، کیونکہ یورپی یونین کی سخت تعمیلی (کمپلائنس) شرائط ان کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے معیارات پر پورا اترنے کی لاگت سالانہ 200 ہزار یورو تک ہوسکتی ہے جو زیادہ تر پاکستانی ایس ایم ایز کی سالانہ آمدن سے بھی زیادہ ہے اور اس طرح ان کی مسابقتی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
اسٹیل کا شعبہ بھی اسی قدر سنگین بحران کا شکار ہے۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرز (پی اے ایل ایس پی) کے چیئرمین جاوید اقبال ملک نے کہا کہ پاکستان کی اسٹیل صنعت جو 45 ذیلی صنعتوں کو سہارا دیتی ہے اس وقت صرف 30 سے 50 فیصد پیداواری صلاحیت پر کام کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جدید اور کم اخراج والی ٹیکنالوجی میں 600 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود یہ شعبہ سالانہ 9 ملین ٹن کی نصب شدہ صلاحیت کے مقابلے میں صرف 3.8 ملین ٹن اسٹیل پیدا کررہا ہے۔
جاوید اقبال ملک نے کہا کہ بلند ٹیکس شرح، آسمان سے باتیں کرتے توانائی اخراجات اور گرتی ہوئی طلب نے بہت سی اسٹیل ملز کو بند ہونے پر مجبور کردیا ہے جبکہ جو یونٹس باقی ہیں وہ بھی خسارے میں کام کررہے ہیں۔ یہ شعبہ 150 ارب روپے کی آمدن میں حصہ ڈالتا ہے، 2 لاکھ سے زائد افراد کو براہِ راست روزگار فراہم کرتا ہے، 2 ارب ڈالر کی درآمدات کا متبادل بنتا ہے اور معیشت میں نمایاں ویلیو ایڈیشن پیدا کرتا ہے۔ اسٹیل پر خرچ کیا جانے والا ہر ایک ڈالر 2.50 ڈالر کی اضافی قدر پیدا کرتا ہے جبکہ اسٹیل کے دو روزگار سپلائی چین میں مزید 13 ملازمتیں پیدا کرتے ہیں۔
انہوں نے طلب کی تباہی کی بنیادی وجہ بالواسطہ ٹیکسز کو قرار دیا۔ اسٹیل پر کم از کم سیلز ٹیکس 2018-19 میں فی ٹن 10,350 روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 42 ہزار روپے تک پہنچ گیا یعنی تقریباً چار گنا اضافہ۔ جاوید اقبال ملک کے مطابق اس ایک اقدام نے طلب کو زمین بوس کردیا، کھپت میں کمی آئی اور حیرت انگیز طور پر حکومتی آمدن بھی تقریباً 50 فیصد کم ہو گئی۔‘
طلب میں کمی کے ساتھ ہی اسکریپ کی درآمدات جو آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہیں 2023 سے 2025 کے درمیان تقریباً نصف رہ گئیں۔ اس کے اثرات میں بجلی کے استعمال میں کمی، انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو دی جانے والی کیپسٹی پیمنٹس میں اضافہ، اور ٹیکس و بجلی چوری میں تیزی شامل ہے کیونکہ غیر رسمی پیداواری یونٹس کم معیار کی اسٹیل مارکیٹ میں بھررہے ہیں۔
بنگلہ دیش کے ساتھ موازنہ پاکستان کی پالیسی ناکامیوں کو نمایاں کرتا ہے۔ تقریباً یکساں پیداواری صلاحیت کے باوجود بنگلہ دیش 6.5 ملین ٹن اسٹیل پیدا کرتا ہے جبکہ پاکستان کی پیداوار صرف 3.8 ملین ٹن ہے ۔ بنگلہ دیش فی ٹن ویلیو ایڈڈ ٹیکس صرف 6,264 روپے کے مساوی عائد کرتا ہے، ریبارز پر 90 فیصد تک درآمدی تحفظ فراہم کرتا ہے، کارپوریٹ ٹیکس کم رکھتا ہے اور مسابقتی بجلی نرخ پیش کرتا ہے۔
جاوید اقبال ملک نے کہا کہ پاکستان ٹیکس اور توانائی پالیسیوں کو صنعتی ترقی کے مطابق ہم آہنگ کر کے اسٹیل شعبے کو دوبارہ بحال کرسکتا ہے۔ مکمل پیداواری صلاحیت پر یہ شعبہ سالانہ 7 ارب یونٹ (کلو واٹ آور) بجلی استعمال کر سکتا ہے جو موجودہ 3 ارب یونٹس سے کہیں زیادہ ہے، اس طرح اضافی بجلی کو جذب کرنے میں مدد ملے گی اور حکومت کو آئی پی پیز کو دی جانے والی کیپسٹی پیمنٹس میں 60 سے 70 ارب روپے کی بچت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو ایک اسٹریٹجک صنعت کے ضیاع کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے ساتھ روزگار، آمدن اور صنعتی خود انحصاری بھی ختم ہو جائے گی۔
صنعتی رہنماؤں نے لاگت کی مسابقت، اسمگلنگ، ٹیکس چوری اور سابقہ فاٹا/پاٹا میں دی گئی چھوٹ کے غلط استعمال جیسے مسائل حل کیے بغیر ٹیرف تحفظ میں کمی کے حکومتی فیصلے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی پالیسیاں مقامی اسٹیل صنعت کو تباہ کر سکتی ہیں جس کے نتیجے میں صنعت کار مینوفیکچررز کے بجائے محض درآمد کنندگان اور تاجر بن کر رہ جائیں گے۔
زراعت اور تعمیرات کے اشاریے بھی کمزوری کی عکاسی کر رہے ہیں۔ وفاقی کمیٹی برائے زراعت کے مطابق کپاس کی پیداوار کا تخمینہ 68.5 لاکھ گانٹھیں لگایا گیا ہے، جو 3.3 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے جبکہ چاول اور مکئی کی پیداوار میں بالترتیب 3.2 فیصد اور 6.7 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ نومبر 2025 میں سیمنٹ کی ترسیلات سالانہ بنیاد پر 3.47 فیصد کم ہو کر 41.4 لاکھ ٹن رہ گئیں تاہم 2025-26 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران مجموعی ترسیلات 11.54 فیصد اضافے کے ساتھ 21.45 ملین ٹن تک پہنچ گئیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.