BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Increased By (0.41%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.20 Increased By ▲ 0.46 (0.81%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.69 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.61 Increased By ▲ 0.80 (8.15%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 209.90 Increased By ▲ 2.03 (0.98%)
FABL 98.95 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.46 Decreased By ▼ -0.22 (-1.32%)
GGL 23.82 Increased By ▲ 0.25 (1.06%)
HBL 302.42 Decreased By ▼ -1.97 (-0.65%)
HUBC 218.94 Increased By ▲ 0.83 (0.38%)
HUMNL 10.54 Decreased By ▼ -0.12 (-1.13%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.07 (-0.95%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.54 (1.86%)
MLCF 96.36 Increased By ▲ 0.86 (0.9%)
OGDC 318.22 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.31 (1.88%)
PIOC 296.62 Increased By ▲ 16.61 (5.93%)
PPL 220.17 Increased By ▲ 0.43 (0.2%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.13 Decreased By ▼ -1.36 (-1.27%)
SSGC 29.14 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.51 Increased By ▲ 0.41 (3.39%)
TRG 60.22 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

لاہور ہائیکورٹ کا نئے پولٹری کارٹل کیس میں کیٹ کی کارروائی روکنے سے انکار

  • بڑی ہیچریز منظم انداز میں قیمتوں کے تعین میں ملوث رہی ہیں ، انکوائری میں انکشاف
شائع اپ ڈیٹ

لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) نے آٹھ پولٹری کمپنیوں اور پولٹری ایسوسی ایشن کے خلاف 15 کروڑ 50 لاکھ روپے کے کارٹل سازی کے مقدمے میں کمپیٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل (کیٹ) کی کارروائی روکنے سے انکار کر دیا، جو ایک روزہ برائلر چوزوں (ڈی او سی) کی قیمتوں کے تعین سے متعلق ہے۔

جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ یہ درخواستیں سپریم فارمز (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور صابر پولٹری کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جن میں پولٹری ہیچریز اور پولٹری ایسوسی ایشن کی جانب سے کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پر کیٹ کی کارروائی روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے کہا تھا کہ ان کی آئینی درخواستوں کے فیصلے تک کیٹ کو اپیلوں کا فیصلہ کرنے سے روکا جائے۔

سپریم فارمز نے کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کی دفعہ 34 کو آئینی طور پر چیلنج کیا، جو سی سی پی کو کسی بھی مقام پر داخل ہونے اور تلاشی لینے کا اختیار دیتی ہے، جبکہ دفعہ 53 کو بھی چیلنج کیا، جو شواہد اکٹھا کرنے کے لیے سی سی پی کو دیگر اداروں اور ایجنسیوں سے مدد لینے کی اجازت دیتی ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق درخواست گزار نے کیٹ کی کارروائی معطل کرنے کی استدعا بھی کی اور درخواست کی کہ ٹربیونل کو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی تیار کردہ فارنزک رپورٹس اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے حاصل کردہ ڈیٹا پر انحصار کرنے سے روکا جائے، جنہیں سی سی پی نے اپنے فیصلے میں استعمال کیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ تلاشی اور معائنہ کے دوران سی سی پی کی ٹیموں نے پولٹری ایسوسی ایشن اور متعدد ہیچریز کے دفاتر سے الیکٹرانک شواہد حاصل کیے، جن کا بعد ازاں فارنزک تجزیہ کیا گیا اور انہی شواہد کی بنیاد پر سی سی پی نے اپنا فیصلہ جاری کیا۔

صابر پولٹری نے بھی اسی نوعیت کی بنیادوں پر ایل ایچ سی میں الگ درخواست دائر کی، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ موبائل فونز اور پی ٹی اے کے ڈیٹا سے حاصل کردہ شواہد کی بنیاد پر کیٹ کو فیصلہ سنانے سے روکا جائے، تاہم لاہور ہائی کورٹ نے کیٹ کی کارروائی روکنے یا معطل کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں، البتہ عدالت ان درخواستوں کی سماعت میرٹ پر جاری رکھے گی۔

واضح رہے کہ رواں سال اپریل میں سی سی پی نے آٹھ بڑی پولٹری ہیچریز اور پولٹری ایسوسی ایشن پر کارٹل سازی اور ایک روزہ برائلر چوزوں کی قیمتوں کے تعین کے جرم میں مجموعی طور پر 15 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔

یہ کارروائی ڈی او سی مارکیٹ میں سی سی پی کی ازخود نوٹس انکوائری کے بعد عمل میں آئی تھی۔

انکوائری میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ بڑی ہیچریز، جن میں صادق پولٹری، ہائی ٹیک گروپ، اسلام آباد گروپ، اولمپیا گروپ، جدید گروپ، سپریم فارمز (سیزنز گروپ)، بگ برڈ گروپ اور صابر گروپ شامل ہیں، منظم انداز میں قیمتوں کے تعین میں ملوث تھیں، جو کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کی دفعہ 4 کی خلاف ورزی ہے۔

Comments

Comments are closed.