سی سی پی نے نجی اسکولز کو شوکاز نوٹس کے جواب جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کر دی
- یہ نوٹسز 2010 کے مقابلہ جاتی قانون کے سیکشن 4 کی ممکنہ خلاف ورزیوں سے متعلق ہیں، جو غالب پوزیشن کے غلط استعمال کے سلسلےمیں ہیں
پاکستان کے مقابلہ جاتی کمیشن(سی سی پی) نے بڑے نجی اسکول سسٹمز کو شوکاز نوٹسز کے جوابات جمع کرانے کے لیے اضافی وقت فراہم کر دیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ یہ نوٹسز 2010 کے مقابلہ جاتی قانون کے سیکشن 4 کی ممکنہ خلاف ورزیوں کے حوالے سے ہیں، جو غالب پوزیشن کے غلط استعمال سے متعلق ہے۔
کمیشن کو یہ شکایات موصول ہوئی ہیں کہ بعض نجی اسکول والدین کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ برانڈڈ یونیفارم، اسٹیشنری اور دیگر لازمی اشیاء صرف نامزد وینڈرز سے خریدیں۔
کمیشن کے مطابق متعدد اسکول سسٹمز نے اپنے جوابات جمع کرانے کے لیے وقت میں توسیع کی درخواست کی تھی۔
درخواستوں پر غور کے بعد سی سی پی نے جوابات جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 دسمبر 2025 تک بڑھا دی ہے ، تاکہ تمام فریقین کو شفاف اور منصفانہ موقع فراہم کیا جا سکے جب کہ کچھ اسکولز نے پہلے ہی تحریری جوابات جمع کروا دیے ہیں۔
وہ ادارے جنہیں شو کاز نوٹسز جاری کیے گئے ہیں ان میں بیکن ہاؤس اسکول سسٹم، دی سٹی اسکول، ہیڈ اسٹارٹ، لاہور گرامر اسکول (ایل جی ایس)، فروبلز، رُٹس انٹرنیشنل، رُٹس ملیینیم، کے آئی پی ایس، الائیڈ اسکولز، سپر نووا، دارالارقم، اسٹیپ اسکول، ویسٹ منسٹر انٹرنیشنل، یونائیٹڈ چارٹر اسکول اور دی سمارٹ اسکول شامل ہیں۔
جوابات موصول ہونے کے بعد سی سی پی سماعتوں کا شیڈول مرتب کرے گا، جہاں متعلقہ اسکولز یا ان کے مجاز قانونی وکلاء کو قانون کے مطابق اپنے کیس پیش کرنے کی اجازت ہوگی۔
سی سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ تعلیمی شعبہ عوامی مفاد کے لحاظ سے انتہائی اہم ہے اور لاکھوں گھروں پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔
انہوں نے کمیشن کے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ منصفانہ مقابلہ کو فروغ دینے، صارفین کے مفاد کا تحفظ کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے شفاف، غیر جانبدار اور قانونی طریقے سے کارروائی کرے گا۔


Comments