BR100 Increased By (0.11%)
BR30 Decreased By (-0.26%)
KSE100 Increased By (0.12%)
KSE30 Increased By (0.09%)
BAFL 56.75 Decreased By ▼ -0.45 (-0.79%)
BIPL 27.18 Increased By ▲ 0.29 (1.08%)
BOP 34.10 Increased By ▲ 0.41 (1.22%)
CNERGY 9.92 Decreased By ▼ -0.69 (-6.5%)
DFML 18.16 Increased By ▲ 0.11 (0.61%)
DGKC 207.00 Decreased By ▼ -2.90 (-1.38%)
FABL 100.18 Increased By ▲ 1.23 (1.24%)
FCCL 54.61 Increased By ▲ 0.87 (1.62%)
FFL 16.70 Increased By ▲ 0.24 (1.46%)
GGL 24.87 Increased By ▲ 1.05 (4.41%)
HBL 301.99 Decreased By ▼ -0.43 (-0.14%)
HUBC 219.15 Increased By ▲ 0.21 (0.1%)
HUMNL 10.48 Decreased By ▼ -0.06 (-0.57%)
KEL 7.42 Increased By ▲ 0.14 (1.92%)
LOTCHEM 29.35 Decreased By ▼ -0.30 (-1.01%)
MLCF 94.35 Decreased By ▼ -2.01 (-2.09%)
OGDC 316.40 Decreased By ▼ -1.82 (-0.57%)
PAEL 43.15 Increased By ▲ 1.38 (3.3%)
PIBTL 16.72 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 296.50 Decreased By ▼ -0.12 (-0.04%)
PPL 220.50 Increased By ▲ 0.33 (0.15%)
PRL 49.05 No Change ▼ 0.00 (0%)
SNGP 104.94 Decreased By ▼ -1.19 (-1.12%)
SSGC 28.17 Decreased By ▼ -0.97 (-3.33%)
TELE 8.80 Decreased By ▼ -0.02 (-0.23%)
TPLP 13.40 Increased By ▲ 0.89 (7.11%)
TRG 60.30 Increased By ▲ 0.08 (0.13%)
UNITY 10.44 Increased By ▲ 0.42 (4.19%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
مارکٹس

اسلام آباد ہائیکورٹ : جسٹس طارق جہانگیری کی ڈویژن بینچ کے سامنے پیشی ، چیف جسٹس کی شمولیت پر اعتراض

  • میری 34 سال پرانی ڈگری اصلی اور مستند ہے ، جسٹس طارق محمود جہانگیری
شائع اپ ڈیٹ

جسٹس طارق محمود جہانگیری اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کی ڈویژن بینچ کے سامنے پیش ہوئے، جو ان کی ڈگری کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کر رہی ہے۔ انہوں نے آئی ایچ سی کے چیف جسٹس سر فراز ڈوگر کو بینچ میں شامل کرنے پر رسمی اعتراض کیا۔

جسٹس طارق جہانگیری نے مفادات کا ٹکراؤ کا حوالہ دیا کیونکہ انہوں نے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سینئرٹی کو چیلنج کیا ہوا ہے، لہٰذا انہوں نے کہا کہ موجودہ بینچ پر انہیں کوئی اعتماد نہیں۔

جسٹس طارق جہانگیری، جنہیں گزشتہ ہفتے نوٹس موصول ہونے کے بعد عدالتی کام سے روک دیا گیا تھا نے جعلی ڈگری کیس میں عدالت کے سامنے اپنے دلائل پیش کیے۔

انہوں نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے مخاطب ہو کر کہا آپ بھی جج ہیں اور میں بھی جج ہوں۔ آپ کی سینئرٹی سپریم کورٹ میں چیلنج ہو چکی ہے۔ یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے، آپ میرے خلاف اس کیس کی سماعت نہیں کر سکتے۔

انہوں نے استدعا کی کہ کو وارنٹو کی رٹ (عہدے پر قابض ہونے کی قانونی اہلیت کو چیلنج کرنا) کی سماعت عام طور پر ایک جج کی بنچ کرے نہ کہ ڈویژن بینچ۔ انہوں نے ایک جج کی جانب سے دوسرے کو نوٹس جاری کرنے کے عمل کو بھی غیر معمولی قرار دیا۔

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے حلف کے ساتھ کہا کہ ان کی 34 سال پرانی ڈگری اصلی ہے اور یونیورسٹی نے کبھی اس کی صداقت پر سوال نہیں اٹھایا۔

انہوں نے مزید وقت دینے کی درخواست کی ، تاکہ جواب جمع کرائیں اور وکیل مقرر کر سکیں، کیونکہ انہیں جمعرات کو نوٹس موصول ہوا ہے لیکن درخواست کی کاپی نہیں دی گئی تھی اور تین دن جواب کے لیے ناکافی ہیں۔

چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ان کے ساتھ ویسا ہی انصاف ہوگا جیسا کسی اور کے ساتھ ہوتا ہے۔

عدالت نے بعد ازاں جسٹس طارق جہانگیری کی بینچ پر اعتراض مسترد کر دیا اور کراچی یونیورسٹی کے رجسٹرار کو طلب کر کے متعلقہ تعلیمی ریکارڈ منگوا لیا۔ سماعت 18 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

یاد رہے کہ کراچی یونیورسٹی نے گزشتہ ہفتے جسٹس جہانگیری کی ڈگری جعلی قرار دی تھی۔ یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات نے بتایا تھا کہ نہ صرف ڈگری اور مارک شیٹ پر داخلہ نمبر جعلی تھے بلکہ دیگر دستاویزات میں بھی چالاکی سے تبدیلی کی گئی تھی۔

کیس کا پس منظر

جولائی 2024 میں میاں داؤد نے آئی ایچ سی میں کو وارنٹو کی درخواست دائر کی تھی، جس میں جسٹس طارق جہانگیری کی جعلی قانون کی ڈگری کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جعلی ڈگری کی بنیاد پر جسٹس جہانگیری کی تقرری غیر آئینی ہے۔

بعد ازاں ستمبر میں آئی ایچ سی کی ایک بینچ نے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے تک سینئر جج کو عدالتی فرائض انجام دینے سے روک دیا تھا۔

جسٹس طارق جہانگیری نے ستمبر 19 کو آئی ایچ سی ڈویژن بینچ کے اس حکم کو چیلنج کرتے ہوئے سول درخواست دائر کی۔

انہوں نے اس حکم کو آئینی دفعات 189 اور 209(7) کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور عدلیہ کی آزادی پر سنگین حملہ قرار دیا۔

ستمبر 25 کو سندھ ہائی کورٹ میں اپنی پیشی کے دوران جسٹس طارق جہانگیری نے کہا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی ہائی کورٹ جج ملزم کے طور پر عدالت میں کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کراچی یونیورسٹی کی طرف سے کبھی کوئی نوٹس نہیں ملا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کی ڈگری مکمل طور پر درست ہے اور انہوں نے ذاتی طور پر امتحانات دیے تھے، نیز اپنی 34 سالہ خدمات کے دوران کبھی بدعنوانی کا الزام نہیں لگا۔

یہ کیس سندھ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے سنا، جس میں جسٹس ثمن رفعت اور جسٹس کے کے آغا شامل تھے، نیز ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور یونیورسٹی آف کراچی کے وکلاء بھی شامل تھے۔

واضح رہے کہ جسٹس جہانگیری کی پروفائل کے مطابق انہوں نے 1991 میں گورنمنٹ اسلامیہ لاء کالج، جو یونیورسٹی آف کراچی سے منسلک ہے سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

جسٹس طارق جہانگیری آئی ایچ سی کے ان چھ ججز میں شامل تھے جنہوں نے مارچ 2024 میں سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک مشترکہ خط لکھا تھا، جس میں خاص طور پر انٹیلی جنس اداروں، خصوصاً آئی ایس آئی کی عدالتی معاملات میں مداخلت کے سنگین الزامات لگائے گئے تھے۔

Comments

Comments are closed.