پاکستان کی اقتصادی نمو کا آئوٹ لک بہتر ہوا ہے، ایشین ڈویلپمنٹ بینک
- سیلاب کے فوراً بعد ہونے والے تیز رفتار اضافے کے بعد اب بنیادی غذائی اشیا کی قیمتیں بتدریج مستحکم ہو رہی ہیں، رپورٹ
ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی نمو کا آئوٹ لک سال 2025 اور 2026 کے لیے بہتر ہوا ہے کیونکہ سیلاب کے فوراً بعد ہونے والے تیز رفتار اضافے کے بعد اب بنیادی غذائی اشیا کی قیمتیں بتدریج مستحکم ہو رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ایشیائی ترقیاتی منظرنامے میں پاکستان اور سری لنکا کی شرح نمو کے تخمینے بہتری کی جانب نظرثانی کیے گئے ہیں، جس کی بنیادی وجہ سرکاری سرمایہ کاری میں اضافہ اور سیلاب کے اثرات کا توقع سے کم ہونا ہے۔
ایشین بینک نے بتایا کہ پاکستان کے مالی سال 2025 کی اقتصادی کارکردگی توقعات سے بہتر رہی، خاص طور پر آخری سہ ماہی میں جہاں نمو 5.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ حکومت نے مالی سال 2025 کے لیے مجموعی قومی پیداوار کے تخمینے کو 2.7 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے ابتدائی چار ماہ میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 4.7 فیصد رہی، جو گزشتہ برس اسی عرصے میں 8.7 فیصد تھی۔ غذائی اشیا کی قیمتوں میں استحکام نے مجموعی افراط زر کو نیچے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ترقی پذیر ایشیا اور بحرالکاہل کے لیے رواں سال اور آئندہ سال کی شرح نمو کے اندازوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ خطے میں برآمدات توقع سے زیادہ مضبوط رہی ہیں جبکہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں کی تکمیل کے بعد تجارتی غیر یقینی بھی کم ہوئی ہے۔ سیمی کنڈکٹرز اور ٹیکنالوجی مصنوعات کی برآمدات، کم ہوتی افراط زر اور مستحکم مالی حالات نے خطے کی معاشی بنیادوں کو مزید تقویت دی ہے۔
خطے کی مجموعی معاشی نمو رواں سال 5.1 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ آئندہ سال کے لیے یہ تخمینہ 4.6 فیصد ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ تجارتی معاہدوں نے غیر یقینی میں کمی کی ہے لیکن عالمی تجارت کے کمزور ماحول، جغرافیائی کشیدگیوں اور چین کی جائیداد مارکیٹ کی ممکنہ گراوٹ سے خطرات بدستور موجود ہیں۔ ترقی پذیر ایشیا میں افراط زر مزید کم ہو کر رواں سال 1.6 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ آئندہ سال کے لیے یہ شرح 2.1 فیصد پر برقرار رکھی گئی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments