خیبر پختونخوا حکومت نے میران بلاک کے 49 فیصد حصص شراکت دار اداروں کو منتقل کر دیے
- میران بلاک کے 49 فیصد حصص آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کی قیادت میں کنسورشیم کو منتقل کیے گئے
خیبر پختونخوا حکومت نے جنوبی وزیرستان کے اہم تیل اور تلاش کے علاقے میران بلاک کے 49 فیصد حصص شراکت دار اداروں کو منتقل کر دیے ہیں۔
اس حوالے سے ایک تقریب خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کی۔ اس انتظام کے تحت میران بلاک کے 49 فیصد حصص آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کی قیادت میں کنسورشیم کو منتقل کیے گئے، جبکہ 51 فیصد حصص خیبر پختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی لمیٹڈ (کے پی او جی سی ایل) کے پاس برقرار رہیں گے۔
کنسورشیم میں گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) بھی شامل ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ کنسورشیم کے پی او جی سی ایل کے 51 فیصد حصص کی سرمایہ کاری کا بوجھ بھی اٹھائے گا۔
اس معاہدے کے تحت خیبر پختونخوا میں تقریباً 22 ارب روپے کی سرمایہ کاری لائے گئی ہے جبکہ میران بلاک کے معاہدے سے صوبائی حکومت اور کے پی او جی سی ایل کو تقریباً 12 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے میران بلاک کے 49 فیصد حصص کی شراکت دار اداروں کو منتقلی کو صوبائی حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ یہ منصوبہ صوبے میں تیل و گیس کی تلاش کے نئے دور کا آغاز کرے گا، مقامی روزگار کے مواقع فراہم کرے گا اور کاروباری و صنعتی ترقی کو فروغ دے گا۔
وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ قدرتی وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے اور تمام فیصلے مقامی کمیونٹی کے مفادات کے مطابق کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا توانائی کے شعبے میں تیزی سے خودمختاری کی جانب بڑھ رہا ہے اور ساتھ ہی نئے اور پائیدار ریونیو ذرائع بھی تیار کر رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت توانائی کے منصوبوں پر غیر معمولی رفتار سے عملدرآمد کر رہی ہے اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کے لیے مکمل حمایت جاری رکھے گی۔
تقریب میں چیف منسٹر کے اسپیشل اسسٹنٹ برائے اطلاعات و عوامی تعلقات شفیع اللہ جان، رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی اور شاہد خٹک، رکن صوبائی اسمبلی داؤد آفریدی،کے پی او جی سی ایل کے سینئر افسران اور شراکت دار اداروں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments