پاکستان کا 2030 تک 60 فیصد بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف ہے، اویس لغاری کی قومی اسمبلی میں بریفنگ
قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا کہ ملک ماحول دوست مستقبل کی جانب نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔ حکومت نے قومی گرڈ میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 2025 تک 40 فیصد اور 2030 تک 60 فیصد تک بڑھانے کے لیے ہدف مقرر کیے ہیں۔
اراکین کے سوالات کے تحریری جواب میں وزیرِ توانائی (پاور ڈویژن) اویس لغاری نے کہا کہ ملک پہلے ہی 2025 کا ہدف عبور کر چکا ہے کیونکہ ستمبر 2025 تک قابلِ تجدید توانائی پاکستان کے مجموعی بجلی پیداوار مکس کا 46 فیصد سے زائد حصہ بن چکی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آن گرڈ قابل تجدید صلاحیت کا حصہ فی الحال 37 فیصد ہے، لیکن توقع ہے کہ یہ اعداد و شمار میں نمایاں اضافہ ہوگا کیونکہ نجی اور سرکاری دونوں شعبوں کے منصوبے مسلسل فعال (آن لائن) ہوتے جا رہے ہیں۔
اویس لغاری نے بتایا کہ پرائیویٹ پاور اینڈ انفرااسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) کے تحت تیار کیے گئے نجی شعبے کے 60 قابلِ تجدید توانائی منصوبے اس وقت فعال ہیں، جو مجموعی طور پر 4,753 میگاواٹ قومی گرڈ میں شامل کر رہے ہیں۔
ان منصوبوں میں 680 میگاواٹ شمسی توانائی، 1,937 میگاواٹ رن آف دی ریور ہائیڈرو پاور، 1,845 میگاواٹ ونڈ انرجی اور 291 میگاواٹ بیگاس کو جنریشن شامل ہیں۔
مزید برآں، 9,619 میگاواٹ کی سرکاری شعبے کی پن بجلی منصوبے اور کراچی کی کے الیکٹرک میں 100 میگاواٹ کی شمسی توانائی کی گنجائش بھی قابلِ تجدید توانائی کے حصے میں اضافے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا صاف توانائی کا حصہ 46 فیصد سے تجاوز کرگیا ہے اور اپنے 2025 کے قابلِ تجدید توانائی کے ہدف کو مقررہ مدت سے کئی سال پہلے عبور کرلیا ہے۔ انہوں نے ملک کی طویل مدتی توانائی ضروریات کے تحفظ میں حکومت کی قابلِ تجدید توانائی پالیسیوں کی اہمیت پر زور دیا۔
صاف توانائی کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر انہوں نے بتایا کہ حکومت رہائشی، تجارتی اور صنعتی شعبوں میں صارفین کی سطح پر شمسی توانائی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ کے ضوابط جو افراد کو شمسی یا ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کو قومی گرڈ کے ساتھ شیئر کرنے کی اجازت دیتے ہیں ملک بھر میں قابلِ تجدید توانائی کے استعمال میں اضافے کی ایک کلیدی حکمتِ عملی سمجھے جاتے ہیں۔
لغاری نے یہ بھی بتایا کہ حکومت پاور سیکٹر میں بہتری کے لیے اقدامات کر رہی ہے، اور گزشتہ ایک سال کے دوران سرکلر ڈیٹ میں 780 ارب روپے کی کمی اس کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکلر ڈیٹ، جو توانائی شعبے کا ایک بڑا مسئلہ ہے، 30 جون 2024 تک 2,393 ارب روپے تھا جو 30 جون 2025 تک کم ہو کر 1,614 ارب روپے رہ گیا۔
انہوں نے اس کمی کا کریڈٹ مختلف اقدامات کو دیا، جن میں پاور پروڈیوسرز کے ساتھ تاخیر سے ادائیگیوں پر سود کم کرانے کے لیے مذاکرات اور تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی کارکردگی میں بہتری شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مقصد صرف قابلِ تجدید توانائی کی گنجائش میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ ملک کے لیے ایک پائیدار اور مؤثر توانائی نظام کو یقینی بنانا بھی ہے۔
ایک دوسرے معاملے میں، پاکستان پوسٹ کو تنقید کا سامنا ہے کیونکہ روس نے 55 ملین روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث پاکستان کے ساتھ تمام بین الاقوامی میل سروسز معطل کر دی ہیں۔ روسی پوسٹ کی جانب سے اگست 2025 میں جاری کیے گئے سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ معطلی دونوں ممالک کے درمیان ڈاک کے تبادلے میں خلل کا سبب بنی ہے۔
وفاقی وزیر برائے مواصلات علیم خان نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان پوسٹ کو درپیش مالی دباؤ صرف روس تک محدود نہیں، بلکہ نومبر 2021 تک بین الاقوامی واجبات 310 ملین روپے سے بھی تجاوز کر چکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ محکمۂ ڈاک واجبات کی ادائیگی کے لیے کام کر رہا ہے اور امید ہے کہ فنانس ڈویژن کی جانب سے ضروری فنڈز جاری ہونے کے بعد یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معطلی سے بین الاقوامی میل سروسز پر انحصار کرنے والے افراد، کاروبار اور تعلیمی اداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہماری ترجیح ہے کہ روس کے ساتھ ڈاک خدمات کو جلد از جلد بحال کیا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.