طوفان نے سری لنکا کے چائے کے باغات کو موت کے وادی میں بدل دیا
- حکام کے مطابق کم از کم 465 افراد ہلاک اور 366 لاپتہ ہیں
سری لنکا کے پہاڑی علاقوں میں گزشتہ ہفتے آنے والے طوفان کے بعد امدادی کے کارکن اب بھی مٹی میں دبے افراد کی لاشیں نکال رہے ہیں۔ یہ جزیرے کی دہائیوں کی سب سے بڑی قدرتی آفت ہے۔ حکام کے مطابق کم از کم 465 افراد ہلاک اور 366 لاپتہ ہیں۔
سری لنکا کی فضائیہ نے لینڈ سلائیڈ متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا اور مقامی رہائشیوں تک خوراک اور دیگر ضروری سامان پہنچایا۔ اگرچہ بارش رک چکی ہے، لیکن بحالی کا عمل ابھی شروع ہوا ہے۔
اے ایف پی کے فوٹوگرافر اشارہ کوڈیکارہ نے امدادی مشن کے دوران دیکھا کہ چائے کے باغات، سڑکیں اور گاڑیاں مٹی کے تودوں تلے دب گئی ہیں۔ کچھ گھروں کی چھتیں مٹی سے اوپر نظر آ رہی ہیں، جبکہ زیادہ تر عمارتیں مٹی کے تودوں میں دفن ہو چکی ہیں۔
ویلِماڈا کے مرکزی علاقے میں، جو بھاری گاڑیوں کے لیے اب قابل رسائی نہیں، بچاؤ کارکنوں نے پیر کو 11 لاشیں نکالیں اور مزید لوگوں کی تلاش میں مدد کی اپیل کی۔ کئی مقامات پر پہاڑی سلسلے کے کنارے مکمل طور پر کھنچ گئے ہیں، جس سے سبز باغات میں گہرے گڑھے بن گئے ہیں۔
چائے کے باغات، فیکٹریاں اور چائے چننے والے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ جہاں پہلے چائے کے گھنے باغات تھے، وہاں اب مٹی اور ملبے کے بڑے راستے بن گئے ہیں۔ مرکزی سڑکیں لینڈ سلائیڈ کے باعث دفن ہو گئی ہیں اور کچھ ٹکڑے ہی موجود ہیں جو سڑک کی پچھلی حالت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ علاقے تک رسائی دوبارہ کھولنا اولین ترجیح ہے، امداد اب بھی فضائی ذرائع سے فراہم کی جا رہی ہے۔ بھارت اور پاکستان کے ہیلی کاپٹرز بھی سیاحوں اور بیمار افراد کو نکالنے کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔
صدر انورا کمارا ڈساناییکے نے ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا ہے اور بین الاقوامی مدد کی اپیل کی ہے۔ امدادی کے کارکن توقع کرتے ہیں کہ مزید علاقوں تک رسائی حاصل ہونے پر ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔


Comments
Comments are closed.