برطانیہ، کیئر اسٹارمر نے سوشل سیکیورٹی اصلاحات کے نئے منصوبے کا اعلان کردیا
- یہ بجٹ اگرچہ مالیاتی منڈیوں میں نسبتاً بہتر طور پر قبول کیا گیا، تاہم کنزرویٹو اپوزیشن نے اس پر شدید تنقید کی
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر پیر کے روز ملک کے سوشل سیکیورٹی نظام میں اصلاحات کے ایک نئے منصوبے کا اعلان کریں گے، جو گزشتہ موسم گرما میں تجویز کردہ اصلاحات کو ان کی اپنی جماعت کے باغی ارکان اسمبلی کی مخالفت کے باعث آگے نہیں بڑھایا جا سکا تھا۔
ان کی تقریر کے اقتباسات ان کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، جو ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گزشتہ ہفتے پیش کیے گئے بجٹ میں مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے ٹیکسوں میں اضافے کی تجاویز شامل تھیں۔ یہ بجٹ اگرچہ مالیاتی منڈیوں میں نسبتاً بہتر طور پر قبول کیا گیا، تاہم کنزرویٹو اپوزیشن نے اس پر شدید تنقید کی۔
کنزرویٹو پارٹی نے وزیر خزانہ ریچل ریوز پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے بجٹ سے قبل ملکی معاشی حالت کو غلط انداز میں پیش کیا، تاہم ریوز نے اتوار کے روز اپنے انٹرویوز میں ان الزامات کی سختی سے تردید کی۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق برطانیہ کی لیبر حکومت کئی مسائل پر دباؤ میں ہے، جن میں معاشی ترقی نہ ہونے کی شکایات بھی شامل ہیں۔ ایسے میں اسٹارمر پیر کو اپنی معاشی پالیسی کا دفاع کریں گے اور سوشل سیکیورٹی اصلاحات کے موضوع پر واپس آئیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ریاستی فلاحی نظام لوگوں کو نہ صرف غربت میں جکڑ رہا ہے بلکہ انہیں روزگار سے بھی دور کر رہا ہے۔ وہ نوجوانوں کے لیے اپرنٹس شپ پروگرامز میں سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان بھی کریں گے اور ساتھ ہی فلاحی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیں گے۔
برطانیہ میں ریکارڈ تعداد میں نوجوان طویل عرصے کی بیماری کے باعث ملازمتوں سے باہر ہیں۔ اسٹارمر کے مطابق ذہنی یا جسمانی معذوری کے باعث اگر کسی فرد کو نظرانداز کر دیا جائے تو وہ دہائیوں تک بے روزگاری اور انحصار کے چکر میں پھنس سکتا ہے، جو نہ صرف ملکی معاشی بوجھ بڑھاتا ہے بلکہ پیداواری صلاحیت اور قومی امکانات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ وہ فلاحی نظام میں موجود ایسی رکاوٹیں دور کرنے کی بات کریں گے جو نوجوانوں کی صلاحیتوں کو محدود کرتی ہیں۔
کاروباری اداروں پر عائد پابندیوں میں نرمی کے اقدامات کا اعلان بھی متوقع ہے۔ اس سے قبل حکومت کو موسم گرما میں مجوزہ اصلاحات، خصوصاً معذوری اور بیماری کے فوائد میں کٹوتی کے منصوبوں، سے پیچھے ہٹنا پڑا تھا کیونکہ 120 سے زائد لیبر ارکان نے اس کی مخالفت کی تھی۔ کئی ارکان کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت سخت دائیں بازو کی سیاست کا مقابلہ کرنے میں اتنی مصروف ہے کہ لیبر کی روایتی مرکز-بائیں پالیسیوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔


Comments
Comments are closed.