BR100 Increased By (0.97%)
BR30 Increased By (1.54%)
KSE100 Increased By (0.64%)
KSE30 Increased By (0.69%)
BAFL 58.50 Increased By ▲ 0.06 (0.1%)
BIPL 25.45 Increased By ▲ 0.25 (0.99%)
BOP 34.34 Increased By ▲ 0.35 (1.03%)
CNERGY 8.17 Increased By ▲ 0.06 (0.74%)
DFML 20.96 Increased By ▲ 0.12 (0.58%)
DGKC 197.79 Increased By ▲ 4.82 (2.5%)
FABL 89.89 Increased By ▲ 0.10 (0.11%)
FCCL 54.04 Increased By ▲ 1.21 (2.29%)
FFL 18.10 Increased By ▲ 0.15 (0.84%)
GGL 19.70 Increased By ▲ 0.73 (3.85%)
HBL 287.32 Increased By ▲ 1.82 (0.64%)
HUBC 215.55 Increased By ▲ 1.17 (0.55%)
HUMNL 10.91 Increased By ▲ 0.03 (0.28%)
KEL 8.15 Increased By ▲ 0.13 (1.62%)
LOTCHEM 27.55 Decreased By ▼ -0.34 (-1.22%)
MLCF 88.15 Increased By ▲ 1.64 (1.9%)
OGDC 323.27 Increased By ▲ 3.31 (1.03%)
PAEL 39.93 Increased By ▲ 0.51 (1.29%)
PIBTL 17.42 Increased By ▲ 0.75 (4.5%)
PIOC 270.50 Increased By ▲ 4.44 (1.67%)
PPL 231.50 Increased By ▲ 3.32 (1.45%)
PRL 35.00 Increased By ▲ 0.32 (0.92%)
SNGP 99.80 Increased By ▲ 0.62 (0.63%)
SSGC 27.15 Increased By ▲ 0.55 (2.07%)
TELE 8.66 Increased By ▲ 0.38 (4.59%)
TPLP 8.85 Increased By ▲ 0.63 (7.66%)
TRG 71.25 Increased By ▲ 1.54 (2.21%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)

خیبر پختونخوا میں اسٹریٹ اکانومی کو قانونی تحفظ دینے کا فیصلہ

  • نئے قانون کے تحت 1 لاکھ 40 ہزار ریڑھی بانوں کے روزگار کو باضابطہ تحفظ ملنے کی توقع ہے
شائع December 1, 2025 اپ ڈیٹ December 1, 2025 12:47pm

خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے صوبے بھر میں ہزاروں اسٹریٹ ویڈرز (ریڑی بانوں) کے کاروبار کو قانونی تحفظ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس مقصد کے لیے حکومت اسٹریٹ اکانومی جس کی مالیت 380 ارب روپے ہے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے خصوصی قانون سازی متعارف کروا رہی ہے، جس سے ریڑی بانوں کے روزگار کو باضابطہ نظام کا حصہ بنایا جائے گا۔

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کے مطابق خیبر پختونخوا احساس ریڑھی بان روزگار تحفظ بل 2025 کا مسودہ تیار کر کے صوبائی کابینہ کو بھیج دیا گیا ہے، جس کی منظوری کے بعد اسے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا ملک کا پہلا صوبہ بن جائے گا جہاں اسٹریٹ ویڈرز کے حقوق کو مستقل قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔ صوبے بھر میں 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد ریڑھی بان اس نظام میں شامل ہوں گے۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ کسی بھی ادارے، افسر یا نجی فرد کو ریڑھی بانوں کی جگہوں پر ناجائز قبضہ کرنے، انہیں بے دخل کرنے یا دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ قانون کے تحت دھونس، زبردستی، غیرقانونی رقوم کا مطالبہ یا ہراسانی سنگین جرم تصور ہوگا۔

بل میں رجسٹرڈ ریڑھی بانوں کے خلاف کسی بھی انسدادِ تجاوزات کارروائی کے لیے پیشگی نوٹس، شواہد اور قانونی طریقہ کار لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریڑھی بانوں کو مائیکرو فنانس، قرضہ، انشورنس اور ہنگامی امداد تک رسائی بھی فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ غیر رسمی معیشت سے نکل کر باضابطہ معاشی نظام کا حصہ بن سکیں۔

Comments

Comments are closed.