سی ڈی ایف نوٹیفکیشن کا عمل جاری ، بے بنیاد قیاس آرائیوں کی گنجائش نہیں ، وزیرِ دفاع
- فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور سی ڈی ایف تقرری کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ قیاسآرائی کی کوئی گنجائش نہیں ، خواجہ آصف
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے نئے تشکیل دیے گئے عہدے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے نوٹیفکیشن میں تاخیر سے متعلق میڈیا میں جاری قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔
وفاقی حکومت کو پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2025 کے نفاذ کے بعد چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ سونپنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کرنا ہے۔
ایکس پر جاری مختصر بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ اس معاملے پر غیر ضروری اور غیر ذمہ دارانہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے تصدیق کی کہ نوٹیفکیشن مناسب وقت پر جاری کر دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم جلد واپس آرہے ہیں اور قیاس آرائی کی کوئی گنجائش نہیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب میڈیا رپورٹس نے یہ سوال اٹھایا کہ نئی قانون سازی کے تحت عسکری کمان کے ڈھانچے کی ازسرِنو ترتیب کے باوجود نوٹیفکیشن میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔
بزنس ریکارڈر نے ہفتے کو رپورٹ کیا تھا کہ فیلڈ مارشل منیر اپنے موجودہ منصب سی او اے ایس کے ساتھ ساتھ سی ڈی ایف کا مشترکہ عہدہ بھی سنبھالنے والے ہیں۔
یہ نیا عہدہ نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی عملی شکل اختیار کرے گا اور سرکاری دستاویزات، فوجی کاغذات اور عوامی حوالہ جات میں سی او اے ایس کی جگہ لے لے گا۔
صدر آصف علی زرداری نے 15 نومبر کو آرمی، ائیر فورس اور نیوی ترمیمی بلز کی منظوری دی تھی جس کے بعد مسلح افواج کی کمانڈ اسٹرکچر میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ممکن ہوئیں۔
ترمیم شدہ قانون کے مطابق سی او اے ایس بیک وقت پانچ سالہ مدت کے لیے چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے اور نوٹیفکیشن کی تاریخ سے فیلڈ مارشل منیر کی مدتِ ملازمت دوبارہ شروع ہو گی۔
قانون میں یہ بھی درج ہے کہ آرٹیکل 243 کے وہ تمام نکات جو فیلڈ مارشل پر لاگو ہوتے ہیں، متحدہ عہدے پر فائز جنرل پر بھی لاگو ہوں گے۔
ان ترامیم کے تحت وفاقی حکومت کو یہ اختیار بھی حاصل ہو گیا ہے کہ سی ڈی ایف کی سفارش پر وائس چیف یا ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف کو تحریری احکامات کے ذریعے سی او اے ایس کے اختیارات تفویض کیے جا سکیں۔
سب سے بڑی ساختی تبدیلی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کے عہدے کا خاتمہ ہے، جسے اب کمانڈر، نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کے نئے منصب سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔
کمانڈر کو سی او اے ایس یا سی ڈی ایف کی سفارش پر حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرلز میں سے تین سال کے لیے مقرر کیا جا سکے گا۔
سی ڈی ایف کے اختیارات وفاقی حکومت مزید واضح کرے گی، جن میں ملٹی ڈومین انٹیگریشن، تینوں افواج میں مشترکہ تعاون میں اضافہ، فورس اسٹرکچر کی تنظیم نو اور جدید جنگی تقاضوں کے مطابق وسیع ذمہ داریاں شامل ہوں گی۔
یہ ازسرِنو تشکیل جنرل (ر) ساحر شمشاد مرزا کی ریٹائرمنٹ کے بعد سامنے آئی ہے، جو نئے آئینی ڈھانچے کے تحت پاکستان کے آخری سی جے سی ایس سی تھے۔ ان کی رخصتی کے ساتھ روایتی جوائنٹ چیفس نظام کا خاتمہ اور افواج میں نئے کمانڈ ماڈل کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔


Comments
Comments are closed.