BR100 Decreased By (-0.42%)
BR30 Decreased By (-0.49%)
KSE100 Increased By (0.03%)
KSE30 Decreased By (-0.03%)
BAFL 56.84 Increased By ▲ 0.11 (0.19%)
BIPL 27.07 Increased By ▲ 0.09 (0.33%)
BOP 33.76 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.03 Increased By ▲ 0.15 (1.52%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.20 (1.11%)
DGKC 204.00 Decreased By ▼ -0.93 (-0.45%)
FABL 99.85 Decreased By ▼ -0.25 (-0.25%)
FCCL 52.90 Decreased By ▼ -0.19 (-0.36%)
FFL 16.51 Decreased By ▼ -0.01 (-0.06%)
GGL 25.24 Increased By ▲ 0.40 (1.61%)
HBL 299.79 Decreased By ▼ -0.03 (-0.01%)
HUBC 217.42 Increased By ▲ 0.34 (0.16%)
HUMNL 10.72 Increased By ▲ 0.11 (1.04%)
KEL 7.19 Decreased By ▼ -0.03 (-0.42%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.34 (1.16%)
MLCF 90.97 Decreased By ▼ -1.19 (-1.29%)
OGDC 317.39 Increased By ▲ 1.10 (0.35%)
PAEL 41.75 Decreased By ▼ -0.29 (-0.69%)
PIBTL 16.52 Increased By ▲ 0.11 (0.67%)
PIOC 298.20 Decreased By ▼ -2.04 (-0.68%)
PPL 217.78 Increased By ▲ 0.94 (0.43%)
PRL 51.85 Increased By ▲ 0.99 (1.95%)
SNGP 100.99 Decreased By ▼ -0.73 (-0.72%)
SSGC 26.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.26%)
TELE 8.51 Decreased By ▼ -0.14 (-1.62%)
TPLP 13.37 Decreased By ▼ -0.02 (-0.15%)
TRG 59.05 Decreased By ▼ -0.21 (-0.35%)
UNITY 10.15 Decreased By ▼ -0.15 (-1.46%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)
کاروبار اور معیشت

سی پیک پاور پروجیکٹس کے مالی مسائل برقرار

  • حکومت پاکستان کے خلاف واجب الادا بقایاجات کی رقم دوبارہ 450 ارب روپے تک پہنچ گئی
شائع اپ ڈیٹ

پی پی آئی بی کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور (سی پیک) کے تحت قائم کیے گئے پاور پروجیکٹس کے مالی مسائل ابھی ختم نہیں ہورہے ہیں، کیونکہ حکومت پاکستان کے خلاف ان کے واجب الادا بقایاجات کی رقم دوبارہ 450 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، حالانکہ وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ چین سے قبل 100 ارب روپے کی ادائیگی کی جا چکی تھی۔

ذرائع کے مطابق اس صورتحال سے نہ صرف چینی پاور پلانٹ کمپنیوں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے بلکہ دیگر غیر ملکی قرض دہندگان بھی پریشان ہیں، کیونکہ سابق قطری وزیر اعظم کی کمپنی جس نے پورٹ قاسم پاور پلانٹ میں ایک ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی تھی، جلد از جلد اپنے حصص فروخت کرنے کی خواہاں ہے۔

وفاقی حکومت کے باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ قطر کی الجانی گروپ نے 1,320 میگاواٹ کے پورٹ قاسم کوئلہ سے چلنے والے پاور پلانٹ میں اپنے 49 فیصد حصص کو بیچنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

1,320 میگاواٹ کا پورٹ قاسم پاور پروجیکٹ(پی کیو ای پی سی) سی پیک کے تحت قائم دو 660 میگاواٹ کے سپرکریٹیکل کوئلہ پلانٹس پر مشتمل ہے۔ یہ 2.09 ارب امریکی ڈالر کا منصوبہ قطر کی المرقب کیپیٹل اور چین کی پاور کنسٹرکشن کارپوریشن (سینوہائیڈرو ریسورسز لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ الجانی گروپ نے اس منصوبے میں بڑی سرمایہ کاری کی تھی۔

پی کیو ای پی سی کے سی ای او وانگ ڈونگفانگ نے متعلقہ وزارتوں اور حکام بشمول منیجنگ ڈائریکٹ پی پی آئی بی کو لکھے گئے خط میں کہا کہ حکومت پاکستان کی رہنمائی میں 1,320 میگاواٹ پورٹ قاسم کوئلہ سے چلنے والا پاور پروجیکٹ سی پیک کے تحت ایک اہم توانائی منصوبے کے طور پر قومی گرڈ کو مسلسل صاف، قابل اعتماد اور اقتصادی طور پر قابل برداشت بجلی فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ منصوبے کی واجب الادا رقم 10 نومبر 2025 تک 80.8 ارب روپے یعنی 288 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس میں 6 ماہ سے زائد کی تاخیر ہے اور یہ رقم مزید بڑھ سکتی ہے۔ سی ای او پی کیو ای پی سی نے کہا کہ اس معاملے میں چینی اور قطری شیئر ہولڈرز/اسپانسرز نے شدید ناراضگی ظاہر کی ہے اور فوری اقدامات کی درخواست کی ہے تاکہ بقایاجات کی رقم کم کی جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی کیو ای پی سی کے پاس توانائی کے خریداری نرخوں میں دیگر تیل اور آر ایل این جی پاور پلانٹس کے مقابلے میں واضح فوائد ہیں۔

لہذا منصوبے کی واجب الادا رقم کی بروقت ادائیگی نہ صرف پائیدار بجلی کی پیداوار کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے بلکہ قرض کے معاہدے اور حکومت پاکستان کی خودمختاری کی ضمانت کی خلاف ورزی سے بچاؤ کے لیے بھی فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

پی کیو ای پی سی کے سی ای او نے متعلقہ حکام کی توجہ ادائیگی میں تاخیر کی سنگین صورتحال کی جانب مبذول کراتے ہوئے درخواست کی ہے کہ مرکزی پاور پرچیزنگ ایجنسی-گارنٹیڈ (سی پی پی اے-جی) کو مالی معاونت فراہم کی جائے تاکہ واجب الادا رقم جلد از جلد ادا کی جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.