BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-0.77%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 58.44 Decreased By ▼ -0.58 (-0.98%)
BIPL 25.20 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 33.99 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 8.11 Decreased By ▼ -0.20 (-2.41%)
DFML 20.84 Decreased By ▼ -0.18 (-0.86%)
DGKC 192.97 Decreased By ▼ -2.69 (-1.37%)
FABL 89.79 Decreased By ▼ -0.42 (-0.47%)
FCCL 52.83 Decreased By ▼ -0.17 (-0.32%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.20 (-1.1%)
GGL 18.97 Decreased By ▼ -0.17 (-0.89%)
HBL 285.50 Decreased By ▼ -2.31 (-0.8%)
HUBC 214.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.73%)
HUMNL 10.88 Decreased By ▼ -0.12 (-1.09%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.12 (-1.47%)
LOTCHEM 27.89 Decreased By ▼ -0.61 (-2.14%)
MLCF 86.51 Decreased By ▼ -1.37 (-1.56%)
OGDC 319.96 Decreased By ▼ -0.62 (-0.19%)
PAEL 39.42 Decreased By ▼ -0.65 (-1.62%)
PIBTL 16.67 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 266.06 Decreased By ▼ -1.72 (-0.64%)
PPL 228.18 Decreased By ▼ -2.19 (-0.95%)
PRL 34.68 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 99.18 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.37%)
TELE 8.28 Decreased By ▼ -0.09 (-1.08%)
TPLP 8.22 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
TRG 69.71 Decreased By ▼ -0.92 (-1.3%)
UNITY 11.67 Decreased By ▼ -0.10 (-0.85%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
پاکستان

عمران خان کو اقتدار میں لانے والوں کا احتساب ضروری ہے ، نواز شریف

  • 2018 کے انتخابات نے ملکی اقتصادی ترقی کو روک دیا ، سابق وزیرِ اعظم
شائع November 26, 2025 اپ ڈیٹ November 26, 2025 07:51pm

سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر نواز شریف نے ان لوگوں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے جو لوگ عمران خان کو اقتدار میں لیکر آئے۔ انہوں نے ایسے لوگوں کو پی ٹی آئی کے بانی سے بھی بڑا مجرم قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے خطاب میں نواز شریف نے مزید کہا کہ 2018 کے انتخابات نے پاکستان کی اقتصادی ترقی کو رکوا دیا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ پی ایم ایل این نے اس وقت انتخابات کے نتائج کو چیلنج کیا تھا اور شہباز شریف نے پارلیمنٹ میں دھاندلی کے الزامات اٹھائے تھے۔ پارٹی نے 16 لاکھ ووٹوں کے مسترد ہونے اور بیلٹ پیپرز کی گلیوں اور نالیوں سے بازیابی پر بھی سوال اٹھایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ 2018 سے پہلے پاکستان میں اعلیٰ شرح نمو اور کم مہنگائی کا رجحان تھا۔ کرنسی کی قدر میں کمی کے حوالے سے نواز شریف نے کہا کہ سعودی ریال 1999 میں جب پرویز مشرف نے مارشل لا نافذ کیا تو 11 روپے کے برابر تھا، جبکہ موجودہ وقت میں ریال تقریباً 78 روپے میں ٹریڈ کر رہا ہے۔

نواز شریف نے آئی ایم ایف پر پاکستان کے انحصار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک بیرونی شرائط کی وجہ سے آزادانہ فیصلے نہیں کر سکتا۔ اگر ترقی کا سابقہ سلسلہ جاری رہتا تو آج پاکستان کو زر مبادلہ کے ذخائر یا آئی ایم ایف کی پابندیوں کا سامنا نہ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ ووٹرز نے پی ایم ایل این کو اس کی سابقہ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیا۔ نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف اور پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی بھی تعریف کی اور کہا کہ وہ اسی تسلسل کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہم نے کھو دیا تھا۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ عمران خان اپنے حریفوں کو چور اور ڈاکو کہنے کا برانڈ بناتے ہیں جبکہ خود ڈاکہ زنی اور چوری میں سب سے آگے ہیں۔

Comments

Comments are closed.