BR100 Decreased By (-0.23%)
BR30 Decreased By (-0.01%)
KSE100 Decreased By (-0.19%)
KSE30 Decreased By (-0.24%)
BAFL 59.15 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
BIPL 27.16 Decreased By ▼ -0.10 (-0.37%)
BOP 36.54 Increased By ▲ 0.54 (1.5%)
CNERGY 12.19 Increased By ▲ 0.94 (8.36%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.12 (0.66%)
DGKC 218.91 Decreased By ▼ -1.28 (-0.58%)
FABL 100.53 Decreased By ▼ -0.02 (-0.02%)
FCCL 57.41 Increased By ▲ 0.53 (0.93%)
FFL 16.57 Increased By ▲ 0.06 (0.36%)
GGL 24.65 Increased By ▲ 0.75 (3.14%)
HBL 325.00 Decreased By ▼ -0.60 (-0.18%)
HUBC 225.95 Increased By ▲ 2.37 (1.06%)
HUMNL 10.80 Increased By ▲ 0.05 (0.47%)
KEL 7.34 Decreased By ▼ -0.08 (-1.08%)
LOTCHEM 27.15 Decreased By ▼ -0.05 (-0.18%)
MLCF 102.20 Decreased By ▼ -0.89 (-0.86%)
OGDC 319.00 Increased By ▲ 0.51 (0.16%)
PAEL 43.84 Decreased By ▼ -0.54 (-1.22%)
PIBTL 16.86 Decreased By ▼ -0.04 (-0.24%)
PIOC 273.70 Decreased By ▼ -2.16 (-0.78%)
PPL 221.50 Decreased By ▼ -0.98 (-0.44%)
PRL 63.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.09%)
SNGP 104.20 Decreased By ▼ -0.71 (-0.68%)
SSGC 27.33 Increased By ▲ 0.08 (0.29%)
TELE 8.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.68%)
TPLP 15.04 Increased By ▲ 0.07 (0.47%)
TRG 63.25 Increased By ▲ 0.88 (1.41%)
UNITY 11.53 Decreased By ▼ -0.37 (-3.11%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)
پاکستان

پاکستان میں کرپشن اور گورننس کی بہتری سے جی ڈی پی 6.5 فیصد تک بڑھ سکتی ہے ، آئی ایم ایف

  • تشخیصی رپورٹ میں ٹیکسیشن، پروکیورمنٹ اور نگرانی کے نظام میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر پاکستان کرپشن اور گہرائی تک موجود حکومتی ناکامیوں پر قابو پا لے تو آئندہ پانچ برس میں اس کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 5 سے 6.5 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایک تشخیصی رپورٹ میں پاکستان کے ریونیو اتھارٹی کے ٹیکسیشن، پروکیورمنٹ اور نگرانی کے نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ آئی ایم ایف ورلڈ بینک رپورٹ جسے پاکستان کے وزارتِ خزانہ نے اپ لوڈ کیاہےکئی برس بعد سب سے تفصیلی جائزہ پیش کرتی ہے کہ کس طرح منقسم ریگولیشن، غیر شفاف بجٹ سازی اور سیاسی قبضہ سرمایہ کاری کو محدود کر رہے ہیں اور محصولات کو کمزور بنا رہے ہیں۔

پاکستان، جس نے وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ پر رپورٹ پر کوئی تبصرہ شامل نہیں کیا، اس سال اپنے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت 4.2 فیصد ترقی کا ہدف رکھتا ہے، جس کے تحت نومبر کی رپورٹ اصلاحات کی رہنمائی کے لیے شائع کی گئی تھی۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام پیچیدہ اور مسخ کن ہے۔پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکس انتظامیہ کو ڈیجیٹل ، چھوٹ کم اور سرکاری اداروں کو دوبارہ منظم کر رہا ہے۔

تاہم تشخیصی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا ٹیکس نظام پیچیدہ اور مسخ کن ہے، جس میں غیر ضروری چھوٹیں اور قانونی احکام شامل ہیں۔
یہ رپورٹ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) میں کمزور داخلی کنٹرولز، فیلڈ دفاتر کے لیے زیادہ خود مختاری اور IT شعبے کی ناقص نگرانی کو اجاگر کرتی ہے۔
IMF نے ٹیکس پالیسی کو سادہ بنانے، FBR کی دوبارہ تشکیل اور آڈٹس کو مضبوط کرنے پر زور دیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی پارلیمنٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے سپلیمنٹری گرانٹس پر انحصار کی بھی تنقید کی گئی ہے۔

کمزور نگرانی، سیاسی مداخلت اور غیر شفاف پروکیورمنٹ
یہ جائزہ سیاسی لحاظ سے حساس اصلاحات کے دوران سامنے آیا ہے اور 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سامنے آیا، جس نے نیا چیف آف ڈیفنس فورسز بنایا اور عدالتی نگرانی کو محدود کیا۔

آئی ایم ایف کے مطابق سرکاری ادارے، جن کے اثاثے مجموعی جی ڈی پی کے تقریباً نصف کے برابر ہیں کمزور نگرانی، سیاسی مداخلت اور غیر شفاف پروکیورمنٹ کی وجہ سے حکمرانی کے لیے خطرات ہیں۔

2022 میں ایف اے ٹی ایم کی گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد بہتری کے باوجود عدالتی تاخیر، کیسز کی بڑی تعداد اور غیر مستقل فیصلے مزید معاہدوں کے نفاذ کو کمزور بناتے ہیں۔

آئی ایم ایف نے 2023 میں قائم ہونے والے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کاری کونسل (ایس آئی ایف سی) پر مزید شفافیت کی بھی ضرورت پر زور دیا، جو سرمایہ کاری کے لیے سنگل ونڈو کے طور پر قائم کی گئی تھی۔

Comments

Comments are closed.