اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی، ریٹیل سرمایہ کار سہارا بنے، بلوم برگ
- فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں نے بھی حصص کی حمایت کی
بلیومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ریکارڈ تیزی کو ریٹیل سرمایہ کار بھی سہارا دے رہے ہیں، کیونکہ 2025 میں کے ایس ای-100 انڈیکس تقریباً 40 فیصد بڑھ چکا ہے، جو مقامی حصص میں نئے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مقامی تاجر رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سست روی اور جمع شدہ نرخوں میں کمی کے دوران حصص کی جانب رجوع کر رہے ہیں۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد سہیل نے کہا کہ ہم اب لیکویڈیٹی کی بنیاد پر ریلی دیکھ رہے ہیں۔ جب تک یہ لیکویڈیٹی نیا راستہ نہیں ڈھونڈتی، مارکیٹ مضبوط رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق، چھوٹے تاجروں کی نظر مقامی حصص پر ہے کیونکہ پاکستان کی معیشت 2023 میں ڈیفالٹ کے قریب پہنچنے کے بعد دوبارہ استحکام حاصل کر رہی ہے، اور ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز اور فِچ ریٹنگز کی جانب سے خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی نشاندہی کی گئی۔
مزید برآں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں نے بھی حصص کی حمایت کی۔
بلیومبرگ کے ڈیٹا کے مطابق اسٹاک ایکسچینج میں تجارتی سرگرمی بھی بڑھ گئی ہے، اور اکتوبر میں روزانہ کا ٹرن اوور 2 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گیا، جو 2017 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
اسی دوران، مقامی ایکویٹی میوچل فنڈز میں بھی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا، تقریباً 16 فیصد کل اثاثے جو ایس ایم سیز کے زیر انتظام ہیں، ستمبر کے آخر تک حصص میں سرمایہ کاری کیے گئے، رپورٹ میں میوچل فنڈز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے ڈیٹا کا حوالہ دیا گیا ہے۔
اسٹاک ہوم کے فنڈ ٹنڈرا فونڈر اے بی کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر میٹیاس مارٹن سن نے کہا کہ سالوں تک سیاسی قیادت میں مسلسل تبدیلیوں کے بعد ملک ایک استحکام کے دور سے گزر رہا ہے جو کچھ وقت تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
تاہم، بلیومبرگ نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اس صورتحال کو خراب کر سکتی ہے، اور اکتوبر میں قیمتوں میں توقع سے زیادہ اضافہ ہوا۔
مزید برآں بھارت اور افغانستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ بھی سرمایہ کاروں کے جذبات پر اثر ڈال سکتا ہے۔
مارٹن سن نے کہا کہ پرامید رہنے کے لیے، آپ کو توقع کرنی ہوگی کہ پاکستان کے اگلے دس سال پچھلے دس سال سے بہتر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، لیکن یہ پچھلے چند سالوں کی طرح تیز نہیں بلکہ آہستہ اور مستحکم ہوگا۔


Comments
Comments are closed.