BR100 Increased By (0.1%)
BR30 Decreased By (-0.18%)
KSE100 Increased By (0.06%)
KSE30 Increased By (0.07%)
BAFL 57.00 Increased By ▲ 0.13 (0.23%)
BIPL 24.90 Decreased By ▼ -0.06 (-0.24%)
BOP 30.46 Increased By ▲ 0.11 (0.36%)
CNERGY 13.11 Decreased By ▼ -0.01 (-0.08%)
DFML 16.71 Increased By ▲ 0.81 (5.09%)
DGKC 192.65 Increased By ▲ 0.20 (0.1%)
FABL 94.40 Increased By ▲ 0.26 (0.28%)
FCCL 52.85 Increased By ▲ 0.06 (0.11%)
FFL 14.68 Decreased By ▼ -0.04 (-0.27%)
GGL 19.20 Decreased By ▼ -0.36 (-1.84%)
HBL 307.35 Increased By ▲ 1.25 (0.41%)
HUBC 201.88 Increased By ▲ 0.46 (0.23%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.12 Increased By ▲ 0.03 (0.49%)
LOTCHEM 26.55 Increased By ▲ 0.09 (0.34%)
MLCF 93.45 Increased By ▲ 0.29 (0.31%)
OGDC 315.50 Decreased By ▼ -1.23 (-0.39%)
PAEL 35.59 Decreased By ▼ -0.04 (-0.11%)
PIBTL 14.88 Increased By ▲ 0.20 (1.36%)
PIOC 243.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.09%)
PPL 224.73 Decreased By ▼ -2.18 (-0.96%)
PRL 93.44 Increased By ▲ 0.42 (0.45%)
SNGP 91.89 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
SSGC 23.79 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
TELE 7.82 Increased By ▲ 0.02 (0.26%)
TPLP 12.90 Decreased By ▼ -0.07 (-0.54%)
TRG 56.95 Increased By ▲ 0.39 (0.69%)
UNITY 8.10 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
کاروبار اور معیشت

انڈس موٹر کی مکمل ، جزوی اسمبل شدہ گاڑیوں میں 40 فیصد ٹیکس کے فرق کی تجویز

عالمی معیار کی گاڑیاں مقامی طور پر تیار کرنے کیلئے پرعزم ہیں ، چیف ایگزیکٹو اصغر جمالی
شائع اپ ڈیٹ

انڈس موٹر کمپنی نے تجویز دی ہے کہ آئندہ آٹو پالیسی 2026–31 میں مکمل اسمبل شدہ (سی بی یو ) اور جزوی اسمبل شدہ (سی کے ڈی) گاڑیوں کے درمیان کم از کم 40 فیصد محصولی فرق برقرار رکھا جائے ، تاکہ ملازمتوں کا تحفظ ہو اور صنعت کی مسابقت کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ تجویز انڈس موٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو علی اصغر جمالی نے پاکستان آٹو شو (پی اے پی ایس) کے دوران دی، جو 14 تا 16 نومبر کو کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقد ہوا، جس میں آئی ایم سی نے ڈائمنڈ اسپانسر کے طور پر حصہ لیا۔

اصغر جمالی نے کہا کہ ہماری پی اے پی ایس 2025 میں شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم میک ان پاکستان کے وژن کے تحت عالمی معیار کی گاڑیاں مقامی طور پر تیار کرنے ، ملازمتوں اور صنعتی ترقی کی حمایت کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ایسی پالیسیاں برقرار رکھے جو مقامی پیداوار کو فروغ دیں اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے منفی اثرات سے صنعت کا تحفظ کریں۔

اصغر جمالی نے مزید کہا کہ طویل مدتی استحکام کے لیے مستحکم اور مستقبل بینی حکومتی پالیسیاں ضروری ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں پارٹس کی پیداوار کو فروغ دیا جائے اور جو پارٹس مقامی طور پر تیار ہو چکے ہیں ان کی درآمد پر زیادہ محصول لگایا جائے ، تاکہ مقامی پارٹس کی صنعت مضبوط ہو، پاکستانی ہنر پیدا ہو اور پائیدار روزگار کا بندوبست ہوسکے۔

اصغر جمالی نے استعمال شدہ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی درآمد کے خلاف فوری اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا، جو ملکی پیداوار، بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) کی ترقی اور روزگار کے مواقع کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت پاکستان میں 17 عالمی آٹوموٹو کمپنیوں نے سرمایہ کاری کی ہے اور 5 لاکھ گاڑیوں کی مشترکہ پیداوار کی صلاحیت کے ساتھ پلانٹس قائم کیے ہیں، جن میں سے صرف ایک تہائی استعمال ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں جہاں بڑی سرمایہ کاری موجود ہے لیکن صلاحیت کا زیادہ حصہ غیر استعمال شدہ ہے، 25 فیصد مارکیٹ پر قبضہ کرنے والی استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ناکافی صلاحیت کے استعمال کی وجہ سے مقامی طور پر تیار شدہ گاڑیاں کم مسابقتی اور صارفین کے لیے مہنگی ہو جاتی ہیں۔

گزشتہ 35 برس میں اصغر جمالی نے کہا کہ آئی ایم سی نے مقامی پیداوار، انسانی ہنر کی ترقی، اعلیٰ معیار کی گاڑیوں کی تیاری، روزگار کے مواقع اور اپنی مضبوط وینڈر نیٹ ورک اور تکنیکی تعاون کے ذریعے اقتصادی ترقی میں مسلسل سرمایہ کاری کی ہے۔

انہوں نے کہا کمپنی پاکستان کے آٹوموٹو ماحولیاتی نظام میں پائیداری، جدت اور صنعتی ترقی کی قیادت جاری رکھے ہوئے ہے۔

اصغر جمالی نے کہا کہ آئی ایم سی میں ہمارا یقین ہے کہ ہم مقامی پیداوار، جدت ، اپنی صنعت اور عوام میں مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے ایک مضبوط پاکستان تعمیر کریں۔

انہوں نے کہا کہ پی اے پی ایس 2025 میں فعال شرکت کے ذریعے آئی ایم سی نے مقامی پیداوار، صنعتی ترقی اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا، جو قومی وژن میک ان پاکستان کے مطابق ہے۔

آئی ایم سی کے پویلین میں شرکا کو ٹویوٹا یارس اور کورولا کراس کی تفصیلی نمائش نے متوجہ کیا، جس میں ان ماڈلز میں حاصل شدہ وسیع مقامی سازی دکھائی گئی۔

اس تقریب میں اوریجنل ایکوئپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایمز)، پالیسی ساز، حکومتی اسٹیک ہولڈرز اور عوام نے شرکت کی ، تاکہ پاکستان کی آٹوموٹو صنعت میں پیش رفت کو دکھایا جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارٖڈر

Comments

Comments are closed.