پاکستان کا فلسطینی علاقوں سے قبضے ختم اور خودمختار ریاست کے قیام کا مطالبہ
- انسانی جانوں کی حفاظت اور جنگ بندی برقرار رکھی جائے ، عاصم افتخار احمد کا اقوام متحدہ میں خطاب
پاکستان نے فلسطینی عوام اور ان کے خود ارادیت کے حق کے لیے اپنے غیر مشروط تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے فلسطینی علاقوں پر قبضے کے فوری خاتمے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے واضح راستہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے امریکہ کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے وہ قرارداد پیش کی جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع منصوبے کو سراہا اور اس کے نفاذ کے لیے بنیاد رکھی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ، تاکہ فوری طور پر خونریزی روکی جا سکے، معصوم فلسطینیوں بشمول خواتین و بچوں کی جانیں بچائی جا سکیں، جنگ بندی برقرار رکھی جائے ، بڑے پیمانے پر انسانی امداد فراہم اور اسرائیلی افواج کی مکمل واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔
سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ عارضی بین الاقوامی استحکام فورس ( آئی ایس ایف ) تب ہی مؤثر ہوگی جب اسے اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق واضح امن قائم رکھنے کے مینڈیٹ کے تحت کام کرنے کی ہدایت دی جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ ڈس آرممنٹ (ہتھیار جمع کروانے) ایک متفقہ سیاسی عمل کے ذریعے فلسطینی قومی اتھارٹی کی نگرانی میں ہونا چاہیے اور غزہ کے لوگوں کا تحفظ آئی ایس ایف کے مینڈیٹ میں اولین ترجیح ہونا چاہیے۔
اسرائیلی فوجیوں کی غزہ سے واپسی فلسطینی خودمختاری کی بحالی اور پائیدار امن کے لیے لازمی شرط ہے۔
سفیر نے مزید کہا کہ کسی بھی صورت میں الحاق یا جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے اور مغربی کنارے اور غزہ کی سرحدی ہم آہنگی ایک قابل عمل، خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض اہم تجاویز جیسے فلسطینی خود ارادیت کے لیے واضح سیاسی راستہ، فلسطینی اتھارٹی کا مرکزی کردار اور اقوام متحدہ کی بڑھتی ہوئی شمولیت، امن منصوبے میں شامل نہیں کی گئیں، جو اس کوشش کی کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔
سفیر نے زور دیا کہ دو سالہ جنگ اور غزہ میں انسانی بحران کے بعد شرم الشیخ امن اجلاس میں امن معاہدے کے بعد امید کی کرن نظر آئی ہے۔
پاکستان نے صدر ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم کیا جو جنگ ختم کرنے، غزہ کی تعمیر نو اور مغربی کنارے کے الحاق کو روکنے کے لیے کی گئی۔
پاکستان کا موقف واضح ہے کہ فلسطینی خود ارادیت اور سرحدی ہم آہنگ فلسطینی ریاست کا قیام، اس خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کا کردار اس عمل میں لازمی اور مرکزی ہے اور امن صرف فلسطینیوں کو نظر انداز کرکے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیلی افواج کی غزہ سے مکمل واپسی کے بغیر آئی ایس ایف مؤثر نہیں ہوگی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ قبضے کے خاتمے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک قابلِ اعتماد، وقت کے پابند سیاسی عمل کے بغیر خطے میں پائیدار امن اور استحکام ممکن نہیں۔


Comments
Comments are closed.