BR100 Increased By (0.62%)
BR30 Increased By (0.82%)
KSE100 Increased By (0.4%)
KSE30 Increased By (0.38%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.26 (0.44%)
BIPL 25.40 Increased By ▲ 0.20 (0.79%)
BOP 34.35 Increased By ▲ 0.36 (1.06%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 194.71 Increased By ▲ 1.74 (0.9%)
FABL 89.87 Increased By ▲ 0.08 (0.09%)
FCCL 53.39 Increased By ▲ 0.56 (1.06%)
FFL 18.08 Increased By ▲ 0.13 (0.72%)
GGL 19.36 Increased By ▲ 0.39 (2.06%)
HBL 286.50 Increased By ▲ 1.00 (0.35%)
HUBC 215.30 Increased By ▲ 0.92 (0.43%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.09 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
LOTCHEM 27.78 Decreased By ▼ -0.11 (-0.39%)
MLCF 87.24 Increased By ▲ 0.73 (0.84%)
OGDC 322.48 Increased By ▲ 2.52 (0.79%)
PAEL 39.89 Increased By ▲ 0.47 (1.19%)
PIBTL 16.95 Increased By ▲ 0.28 (1.68%)
PIOC 270.20 Increased By ▲ 4.14 (1.56%)
PPL 229.51 Increased By ▲ 1.33 (0.58%)
PRL 34.90 Increased By ▲ 0.22 (0.63%)
SNGP 99.29 Increased By ▲ 0.11 (0.11%)
SSGC 26.83 Increased By ▲ 0.23 (0.86%)
TELE 8.60 Increased By ▲ 0.32 (3.86%)
TPLP 8.64 Increased By ▲ 0.42 (5.11%)
TRG 69.72 Increased By ▲ 0.01 (0.01%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.30 Increased By ▲ 0.02 (1.56%)
پاکستان

بلیو اکانومی 150 ارب ڈالر تک پیداوار میں اضافہ کر سکتی ہے ، تجزیہ کار

حکومتی اقدامات قابل تعریف ، تین ڈیپ سی پورٹس کے نئے منصوبوں کا اعلان بڑی پیشرفت ہے ، عتیق الرحمن
شائع November 18, 2025 اپ ڈیٹ November 18, 2025 01:19pm

معاشی و مالیاتی تجزیہ کار عتیق الرحمٰن کے مطابق اگر پاکستان اپنی بلیو اکانومی کو جدید خطوط پر وسعت دے تو یہ سالانہ 100 سے 150 ارب ڈالر تک کی اقتصادی سرگرمی پیدا کر سکتی ہے۔ ایک تحقیقی تجویز میں انہوں نے کہا کہ یہ حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان کی سمندری صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے عملی کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز محمد جنید انور چوہدری اور حکومتِ پاکستان بندرگاہوں، شپنگ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں قابلِ تعریف اقدامات کر رہے ہیں۔

خاص طور پر تین نئی ڈیپ سی پورٹس کے منصوبے کا اعلان ایک بڑی پیشرفت ہے، جس کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی ساحلی پٹی پر موزوں مقامات کی نشاندہی کرے گی۔ یہ اقدام طویل المدتی میری ٹائم ایکسپینشن پلان کی بنیاد رکھتا ہے۔

یہ پیشرفت عتیق الرحمٰن کی تحقیقی کاوش چھوٹی بندرگاہوں کی فوری ضرورت کی منظوری کے بعد سامنے آئی، جو ملک میں سمندری انفرااسٹرکچر کی وسعت کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ تجویز میں زور دیا گیا تھا کہ منی پورٹس اور نئی گہری بندرگاہوں کی تعمیر سے قومی تجارتی صلاحیت میں اضافہ ، پورٹ رش کم، بلیو اکانومی مضبوط اور پاکستان کو خطے میں ایک مسابقتی میری ٹائم حب بنانے میں مدد ملے گی۔

سماء پر مبنی معاشی سرگرمیوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1001 کلومیٹر طویل پاکستانی ساحل قدرتی وسائل، آبی حیات اور معدنیات کا قیمتی خزانہ ہے، جس کا موثر استعمال ملک کے لیے معاشی استحکام اور خطے سے جڑے تجارت و روابط میں اضافہ لا سکتا ہے۔

Comments

Comments are closed.