BR100 Increased By (1.2%)
BR30 Increased By (1.12%)
KSE100 Increased By (0.74%)
KSE30 Increased By (0.73%)
BAFL 57.80 Increased By ▲ 0.60 (1.05%)
BIPL 27.28 Increased By ▲ 0.39 (1.45%)
BOP 34.40 Increased By ▲ 0.71 (2.11%)
CNERGY 10.89 Increased By ▲ 0.28 (2.64%)
DFML 18.40 Increased By ▲ 0.35 (1.94%)
DGKC 210.60 Increased By ▲ 0.70 (0.33%)
FABL 101.18 Increased By ▲ 2.23 (2.25%)
FCCL 54.90 Increased By ▲ 1.16 (2.16%)
FFL 16.76 Increased By ▲ 0.30 (1.82%)
GGL 25.09 Increased By ▲ 1.27 (5.33%)
HBL 304.74 Increased By ▲ 2.32 (0.77%)
HUBC 222.00 Increased By ▲ 3.06 (1.4%)
HUMNL 10.57 Increased By ▲ 0.03 (0.28%)
KEL 7.41 Increased By ▲ 0.13 (1.79%)
LOTCHEM 29.90 Increased By ▲ 0.25 (0.84%)
MLCF 96.74 Increased By ▲ 0.38 (0.39%)
OGDC 319.83 Increased By ▲ 1.61 (0.51%)
PAEL 43.35 Increased By ▲ 1.58 (3.78%)
PIBTL 17.10 Increased By ▲ 0.29 (1.73%)
PIOC 300.99 Increased By ▲ 4.37 (1.47%)
PPL 222.90 Increased By ▲ 2.73 (1.24%)
PRL 52.16 Increased By ▲ 3.11 (6.34%)
SNGP 108.05 Increased By ▲ 1.92 (1.81%)
SSGC 29.50 Increased By ▲ 0.36 (1.24%)
TELE 8.96 Increased By ▲ 0.14 (1.59%)
TPLP 13.10 Increased By ▲ 0.59 (4.72%)
TRG 60.48 Increased By ▲ 0.26 (0.43%)
UNITY 10.57 Increased By ▲ 0.55 (5.49%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
پاکستان

بلیو اکانومی 150 ارب ڈالر تک پیداوار میں اضافہ کر سکتی ہے ، تجزیہ کار

حکومتی اقدامات قابل تعریف ، تین ڈیپ سی پورٹس کے نئے منصوبوں کا اعلان بڑی پیشرفت ہے ، عتیق الرحمن
شائع اپ ڈیٹ

معاشی و مالیاتی تجزیہ کار عتیق الرحمٰن کے مطابق اگر پاکستان اپنی بلیو اکانومی کو جدید خطوط پر وسعت دے تو یہ سالانہ 100 سے 150 ارب ڈالر تک کی اقتصادی سرگرمی پیدا کر سکتی ہے۔ ایک تحقیقی تجویز میں انہوں نے کہا کہ یہ حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان کی سمندری صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے عملی کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز محمد جنید انور چوہدری اور حکومتِ پاکستان بندرگاہوں، شپنگ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں قابلِ تعریف اقدامات کر رہے ہیں۔

خاص طور پر تین نئی ڈیپ سی پورٹس کے منصوبے کا اعلان ایک بڑی پیشرفت ہے، جس کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی ساحلی پٹی پر موزوں مقامات کی نشاندہی کرے گی۔ یہ اقدام طویل المدتی میری ٹائم ایکسپینشن پلان کی بنیاد رکھتا ہے۔

یہ پیشرفت عتیق الرحمٰن کی تحقیقی کاوش چھوٹی بندرگاہوں کی فوری ضرورت کی منظوری کے بعد سامنے آئی، جو ملک میں سمندری انفرااسٹرکچر کی وسعت کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ تجویز میں زور دیا گیا تھا کہ منی پورٹس اور نئی گہری بندرگاہوں کی تعمیر سے قومی تجارتی صلاحیت میں اضافہ ، پورٹ رش کم، بلیو اکانومی مضبوط اور پاکستان کو خطے میں ایک مسابقتی میری ٹائم حب بنانے میں مدد ملے گی۔

سماء پر مبنی معاشی سرگرمیوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1001 کلومیٹر طویل پاکستانی ساحل قدرتی وسائل، آبی حیات اور معدنیات کا قیمتی خزانہ ہے، جس کا موثر استعمال ملک کے لیے معاشی استحکام اور خطے سے جڑے تجارت و روابط میں اضافہ لا سکتا ہے۔

Comments

Comments are closed.