BR100 Decreased By (-1.33%)
BR30 Decreased By (-1.38%)
KSE100 Decreased By (-1.2%)
KSE30 Decreased By (-1.23%)
BAFL 56.30 Decreased By ▼ -0.44 (-0.78%)
BIPL 26.72 Decreased By ▼ -0.32 (-1.18%)
BOP 33.00 Decreased By ▼ -0.68 (-2.02%)
CNERGY 9.86 Increased By ▲ 0.05 (0.51%)
DFML 18.18 Decreased By ▼ -0.34 (-1.84%)
DGKC 203.89 Decreased By ▼ -3.98 (-1.91%)
FABL 96.50 Decreased By ▼ -2.40 (-2.43%)
FCCL 52.50 Decreased By ▼ -1.02 (-1.91%)
FFL 16.45 Decreased By ▼ -0.23 (-1.38%)
GGL 23.35 Decreased By ▼ -0.22 (-0.93%)
HBL 299.66 Decreased By ▼ -4.73 (-1.55%)
HUBC 215.90 Decreased By ▼ -2.21 (-1.01%)
HUMNL 10.60 Decreased By ▼ -0.06 (-0.56%)
KEL 7.26 Decreased By ▼ -0.09 (-1.22%)
LOTCHEM 28.85 Decreased By ▼ -0.26 (-0.89%)
MLCF 93.00 Decreased By ▼ -2.50 (-2.62%)
OGDC 315.30 Decreased By ▼ -2.64 (-0.83%)
PAEL 41.01 Decreased By ▼ -0.82 (-1.96%)
PIBTL 16.33 Decreased By ▼ -0.17 (-1.03%)
PIOC 277.98 Decreased By ▼ -2.03 (-0.72%)
PPL 217.50 Decreased By ▼ -2.24 (-1.02%)
PRL 45.67 Increased By ▲ 1.08 (2.42%)
SNGP 105.47 Decreased By ▼ -2.02 (-1.88%)
SSGC 28.25 Decreased By ▼ -0.68 (-2.35%)
TELE 8.62 Decreased By ▼ -0.14 (-1.6%)
TPLP 12.11 Increased By ▲ 0.01 (0.08%)
TRG 58.80 Decreased By ▼ -1.23 (-2.05%)
UNITY 9.90 Decreased By ▼ -0.21 (-2.08%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)
کاروبار اور معیشت

مجوزہ اضافی بجلی کھپت پیکیج غیر موثر قرار ، صدر بی ایم پی کی تنقید

  • صنعتی صارفین پہلے ہی 38 روپے فی یونٹ تک ادائیگی کر رہے ، برآمدات کی بحالی کیلئے بنیادی ٹیرف میں کمی ضروری ہے ، انجم نثار
شائع اپ ڈیٹ

چیئرمین فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بزنس مین پینل (بی ایم پی) میاں انجم نثار نے حکومت کے مجوزہ اضافے پر مبنی بجلی کھپت پیکیج پر شدید تنقید کی ہے اور اسے غیر مؤثر، ناقص ڈیزائن اور صنعتی شعبے کو بحال کرنے میں ناکام قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی زمینی حقائق سے لاعلمی کی عکاس ہے اور وہ بنیادی مسائل حل نہیں کرتی جو پاکستان میں بجلی کے ٹیرف کو خطے میں سب سے زیادہ بنا دیتے ہیں۔

پاور ڈویژن نے نپرا کے سامنے تجویز پیش کی تھی کہ صنعتی صارفین کے لیے اضافی کھپت پر 22.98 روپے فی یونٹ کی خصوصی رعایتی شرح دی جائے، جس کا مقصد توانائی کے استعمال، صنعتی ترقی اور قومی گرڈ کی استحکام کو فروغ دینا ہے۔

انجم نثار نے کہا کہ جب صنعتی صارفین پہلے ہی 34 سے 38 روپے فی یونٹ ادا کر رہے ہیں تو اضافی کھپت پر چھوٹ کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے زور دیا کہ پیچیدہ اور علامتی اسکیمیں متعارف کرانے کے بجائے مینوفیکچرنگ اور برآمدات کی بحالی کے لیے بنیادی ٹیرف کم کرنا ضروری ہے ۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پاکستان کے صنعتی صارفین خطے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں، جس سے عالمی مارکیٹ میں مسابقت مشکل ہو جاتی ہے۔

میاں انجم نثار نے حکومت پر زور دیا کہ صنعتی شعبے کو غیر منصفانہ سبسڈیز اور کراس سبسڈائز ختم کر کے سسٹم کو مؤثر اور مسابقتی بنایا جائے۔

Comments

Comments are closed.