مہنگائی میں دوبارہ اضافہ ، معیشت دباؤ کا شکارہوگئی ، بزنس مین پینل
- سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں پنجاب میں سیلاب اور پاک افغان سرحدی بندش کے باعث بڑھیں ، میاں انجم نثار
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے بزنس مین پینل (بی ایم پی) نے مہنگائی میں حالیہ اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہے، کیونکہ اکتوبر 2025 میں صارف قیمتوں میں 6.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ایک سال کی بلند ترین سطح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اضافے کی بڑی وجوہات خوراک کی سپلائی میں رکاوٹیں، سیلاب اور مغربی سرحدوں پر تجارتی مشکلات بتائی گئی ہیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر اور بی ایم پی کے چیئرمین میاں انجم نثار نے کہا کہ اگرچہ 2025 کے آغاز میں مہنگائی میں کچھ کمی دیکھی گئی تھی، لیکن اکتوبر کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رجحان واپس آگیا ہے، جو معیشت میں موجود بنیادی کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ پنجاب میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور افغانستان کے ساتھ سرحدی بندشوں کے باعث ہوا، جس سے خوراک اور ایندھن کی ترسیل متاثر ہوئی۔
میاں انجم نثار نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اکتوبر کے لیے پانچ سے چھ فیصد مہنگائی کی پیش گوئی کی گئی تھی، لیکن عارضی جھٹکوں اور مالی دباؤ کے باعث یہ شرح بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال سپلائی چین کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے اور زراعت و لاجسٹکس میں پائیداری پیدا کرنا ناگزیر ہے۔
انجم نثار نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کو مسلسل چوتھی بار 11 فیصد پر برقرار رکھنا محتاط رویے کی عکاسی کرتا ہے، تاہم مسلسل بلند مہنگائی مستقبل میں مالیاتی گنجائش کو محدود کر سکتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مہنگائی پر قابو صرف شرح سود بڑھانے سے ممکن نہیں، اس کے لیے مالی نظم و ضبط اور حقیقی شعبے میں اصلاحات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب، کمزور روپے اور انتظامی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کے باعث مہنگائی دوبارہ بڑھ رہی ہے، جس سے صنعتی بحالی سست اور عوام کی قوتِ خرید متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ توانائی کی قیمتوں میں توازن لایا جائے، بارڈر ٹریڈ کو بہتر بنایا جائے اور متاثرہ علاقوں میں زرعی بحالی کے اقدامات تیز کیے جائیں ،تاکہ خوراک کی مہنگائی کو روکا جا سکے۔
میاں انجم نثار نے کہا کہ بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف غریب طبقے بلکہ چھوٹے کاروباروں کے لیے بھی بڑا چیلنج ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو پائیدار استحکام، مالی نظم اور شفافیت پر توجہ دینی ہوگی ، تاکہ کاروباری اعتماد بحال ہو اور معیشت دوبارہ مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.