گوگل پاکستان میں رجسٹر، جلد دفتر قائم کرے گا، شزہ فاطمہ
- 5 سے 6 لاکھ کروم بُکس سالانہ پاکستان میں تیار کی جائیں گی، وفاقی وزیر آئی ٹی
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے پاکستان میں اپنی رجسٹریشن مکمل کر لی ہے اور جلد ہی ملک میں اپنا پہلا دفتر قائم کرے گی، جبکہ ہری پور میں گوگل کروم بُک کی مقامی تیاری کا باقاعدہ آغاز بھی ہو چکا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ گوگل نے پاکستان میں قدم رکھ دیا ہے اور رجسٹریشن کے بعد یہاں باقاعدہ آپریشنز شروع کرنے جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہری پور میں کروم بُک کی مقامی اسمبلی لائن کام شروع کرچکی ہے۔
شزہ فاطمہ کے مطابق سالانہ 5 سے 6 لاکھ کروم بُکس پاکستان میں تیار کی جائیں گی، جس سے ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدید عملی طریقوں کا فروغ اور براہ راست روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ مستقبل میں یہ کروم بُکس بیرونِ ملک برآمد کی جائیں اور اسمبلی لائن کو مزید توسیع دی جائے۔
4 نومبر کو قائم ہونے والی یہ اسمبلی لائن گوگل فار ایجوکیشن کے مقامی پارٹنر ٹیک ویلی، نیشنل ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی کارپوریشن (این آر ٹی سی) اور آسٹریلوی کمپنی الائڈ کے اشتراک سے قائم کی گئی ہے، جبکہ آپریشنز خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں ہو رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ آئی ٹی مصنوعات کی مقامی تیاری سے نہ صرف لاگت میں کمی آئے گی بلکہ برآمدی بنیادوں پر ٹیک سیکٹر کی ترقی کے ذریعے ملک کے زرِ مبادلہ ذخائر بھی مضبوط ہوں گے۔
وفاقی وزیر کے مطابق گوگل اور وزارت آئی ٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جس کے تحت نوجوانوں کو خصوصاً مصنوعی ذہانت کی تربیت فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گوگل کے ساتھ پاکستان میں اے آئی لیبارٹریز قائم کرنے پر بات چیت جاری ہے۔
میٹا کے حوالے سے شزہ فاطمہ نے بتایا کہ میٹا لاما (Llama) کو اردو میں لانچ کر دیا گیا ہے، جو چند ممالک کو ہی فراہم کیا گیا ہے، تاہم پاکستان کو یہ سہولت کمپنی کے ساتھ مضبوط تعاون کے باعث فراہم کی گئی۔ لاما دراصل لارج لینگویج ماڈلز کا ایک سلسلہ ہے جو انسانی طرز کا متن سمجھنے اور تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ٹک ٹاک کی اسٹیم فیڈ بھی فعال کر دی گئی ہے، جس کے ذریعے صارفین سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی سے متعلق مفت تعلیمی مواد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس اقدام سے ٹک ٹاک کو مثبت اور فائدہ مند تعلیمی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال فروغ پائے گا۔
شزہ فاطمہ نے بتایا کہ سعودی کمپنی گو ٹیلی کام نے بھی پاکستان میں ایک اے آئی ہب قائم کیا ہے جو سعودی عرب کی ٹیکنالوجی خدمات کی متلاشی کمپنیوں کو پاکستانی آئی ٹی اداروں اور فری لانسرز سے جوڑنے کا پلیٹ فارم مہیا کرے گا۔
اس اقدام سے پاکستانی آئی ٹی ماہرین بغیر کسی فزیکل دفتر کے سعودی منڈی تک رسائی حاصل کر سکیں گے، جس سے روزگار، برآمدات اور کاروباری مواقع میں اضافہ ہوگا۔

Comments
Comments are closed.