صنعتی صارفین سے ناجائز وصولیاں روکی جائیں ، اپٹما کی گیس ٹیرف میں شفافیت کی اپیل
- کارخانوں کو زیادہ نقصان والے علاقوں کے نرخوں پر بل بھیجے جا رہے ہیں
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے گیس کمپنیوں کے ٹیرف ڈھانچوں میں شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے ضائع شدہ گیس(یو ایف جی) اور آر ایل این جی لاگتوں کی جانچ ، تصدیق اور مفصل اعداد و شمار کے لیے جامع فریم ورک قائم کرنے پر زور دیا ہے۔
اپٹما نے اپنی درخواست میں، جو اوگرا کو جمع کرائی گئی ہے کہا ہے کہ اوگرا قانوناً پابند ہے کہ وہ عوامی سماعت کے بعد ہی آر ایل این جی کی حتمی فروخت قیمت مقرر کرے گا ، اس سے پہلے کسی قسم کی وصولی صارفین سے نہیں کی جا سکتی۔
اپٹما کے مطابق سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے جولائی 2025 کے لیے آر ایل این جی کی اصل قیمتوں کی ایڈجسٹمنٹ کے بل 12 اگست 2025 تک ادائیگی کے لیے جاری کیے، جبکہ ان قیمتوں کی باقاعدہ منظوری یا سماعت ابھی تک نہیں ہوئی تھی۔
اوگرا نے پہلے دسمبر 2024 میں اور پھر مارچ 2025 میں اصل فروخت قیمتیں نوٹیفائی کیں اور اکتوبر 2025 میں عوامی سماعت کا نوٹس جاری کیا، یعنی قانونی طریقہ کار کو الٹ دیا۔
اپٹما نے کہا کہ اگرچہ ان ایڈجسٹمنٹس میں تاخیر کی وجوہات اوگرا کو ہی معلوم ہیں، لیکن اس تاخیر کو بنیاد بنا کر شفاف طریقہ کار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اپٹما نے مطالبہ کیا کہ یہ بل، وصولیاں روکی جائیں اور تصدیق شدہ اعداد و شمار کی بنیاد پر نئی سماعت منعقد کی جائے۔
پٹرولیم ڈویژن نے 21 اگست 2025 کے نوٹس میں بھی یہی مؤقف اپنایا تھا کہ اوگرا نے 2015 اور 2016 کی وفاقی پالیسی ہدایات کے مطابق ماہانہ آر ایل این جی کی قیمتوں کی ایڈجسٹمنٹ نہیں کی۔
مزید یہ کہ صنعتوں نے پہلے ہی ان توانائی لاگتوں کو اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں شامل کر لیا ہے، لہٰذا بعد از وقت اضافی وصولیاں غیر منصفانہ اور تجارتی طور پر ناقابلِ قبول ہیں۔
اپٹما نے زور دیا کہ ایک منظم توانائی مارکیٹ کے لیے ضروری ہے کہ عارضی ٹیرف کو جلد از جلد حقیقی لاگتوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ دہائیوں پر محیط تاخیر سے نہ صرف ریگولیٹری اعتبار پر سوال اٹھتا ہے بلکہ صارفین اور صنعت دونوں کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
ڈی جی (گیس) کے مطابق اوگرا نے بروقت مصالحتی عمل نہیں کیا بلکہ کئی سالوں کی تفریق کو ایک ہی وصولی میں ضم کر دیا، جو شفافیت اور عدل کے اصولوں کے خلاف ہے۔
لاء ڈویژن نے 27 اگست 2025 کو اپنے جواب میں واضح مؤقف دینے سے انکار کیا، یہ کہہ کر کہ ریٹروسپیکٹو آر ایل این جی وصولی کا معاملہ عدالتوں میں زیرِ سماعت ہے۔
اپٹما نے کہا کہ یہ ابہام اوگرا کے احتساب کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے، جو صنعتی زوال، برآمدی مسابقت میں کمی اور روزگار و سرمایہ کاری پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
اپٹما نے مؤقف اختیار کیا کہ آر ایل این جی کی قیمتیں شفاف، لاگت پر مبنی اور مستقبل کے لیے متعین ہونی چاہئیں۔ پچھلے ادوار کے نرخوں میں بعد از وقت تبدیلیاں اوگرا آرڈیننس کی خلاف ورزی ہیں اور صنعت کے لیے نقصان دہ ہیں۔
انہوں نے نقصان شدہ گیس(یو ایف جی)کے تعین میں سنگین خامیاں بھی بیان کیں۔ اپٹما کے مطابق صنعتی صارفین سے اس طرح چارج کیا جا رہا ہے جیسے وہ گیس کے سب سے زیادہ نقصان والے علاقوں میں ہوں، حالانکہ ان کے نقصانات عملی طور پر 3 فیصد سے کم ہیں، جب کہ اوسط یو ایف جی 8.6 سے 12.3 فیصد کے درمیان ہے۔
اکثر نقصانات گھریلو صارفین کے کم دباؤ والے نیٹ ورک میں ہوتے ہیں، جن میں پرانا انفرااسٹرکچر، خراب میٹرز اور غیرقانونی استعمال شامل ہیں۔ اوگرا کی اپنی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں۔
آر ایل این جی کی درآمد مارچ 2015 میں شروع ہوئی، جب حکومت نے اسے پٹرولیم مصنوعات کے طور پر قرار دیا۔ 2015 اور 2016 کی پالیسی ہدایات کے مطابق اوگرا کو ہر ماہ قیمتوں کا تعین اور ایڈجسٹمنٹ کرنی تھی، مگر آج تک یہ عارضی نظام جاری ہے۔
اپٹما نے اوگرا سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ایک ایسا فریم ورک نافذ کرے جو مکمل شفافیت، تصدیق اور اشاعت کو یقینی بنائے۔ تجویز کردہ اقدامات میں شامل ہیں
- 2015 تا 2022 کے آڈٹ شدہ یو ایف جی اور آر ایل این جی لاگت کے اعداد و شمار شائع کیے جائیں۔
- بڑے صنعتی مراکز (سندر، شیخوپورہ، فیصل آباد، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ) کے لیے پریشر اور صارفین کی اقسام کے مطابق تفصیلی ڈیٹا جاری کیا جائے۔
- آڈٹ شدہ یو ایف جی اکاؤنٹس اوگرا کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جائیں۔
- مارچ 2015 تا جون 2022 کی مدت کے لیے تمام اخراجات کی دستاویزی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
- آئندہ ٹیرف کے تعین میں پریشر اور صارف کی نوعیت کے مطابق یو ایف جی شرحیں مقرر کی جائیں۔
اپٹما نے مزید کہا کہ ٹیرف کا تعین صرف آئندہ کے لیے ہونا چاہیے، تاخیر کی صورت میں اوگرا کو ایک اصلاحی روڈ میپ جاری کرنا چاہیے جس میں وجوہات درج ہوں اور شفاف مالی حساب رکھا جائے۔
آخر میں اپٹما نے یہ اصلاحی اقدامات تجویز کیے
- ریٹروسپیکٹو (پچھلے وقتوں کے) بل واپس اور وصولیاں واپس کی جائیں۔
- تمام ماہانہ لاگت کی ورک شیٹس عوامی کی جائیں۔
- صنعتی صارفین کو گھریلو نیٹ ورک کے نقصانات سے الگ رکھا جائے۔
- ایمرجنسی خریداریوں کی جانچ پڑتال کی جائے۔
- اور ماہانہ یا سہ ماہی بنیادوں پر شفاف آڈٹ شدہ ایڈجسٹمنٹس بحال کی جائیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.