BR100 Decreased By (-0.25%)
BR30 Decreased By (-0.64%)
KSE100 Decreased By (-0.41%)
KSE30 Decreased By (-0.67%)
BAFL 58.35 Decreased By ▼ -0.10 (-0.17%)
BIPL 25.54 Increased By ▲ 0.12 (0.47%)
BOP 33.79 Decreased By ▼ -0.46 (-1.34%)
CNERGY 8.15 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
DFML 20.71 Decreased By ▼ -0.25 (-1.19%)
DGKC 197.20 Decreased By ▼ -0.27 (-0.14%)
FABL 90.03 Increased By ▲ 0.52 (0.58%)
FCCL 53.49 Decreased By ▼ -0.40 (-0.74%)
FFL 17.84 Decreased By ▼ -0.19 (-1.05%)
GGL 20.35 Increased By ▲ 0.55 (2.78%)
HBL 285.69 Decreased By ▼ -0.37 (-0.13%)
HUBC 214.12 Decreased By ▼ -1.28 (-0.59%)
HUMNL 11.11 Increased By ▲ 0.11 (1%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.09 (-1.11%)
LOTCHEM 28.05 Increased By ▲ 0.61 (2.22%)
MLCF 87.40 Decreased By ▼ -0.65 (-0.74%)
OGDC 320.31 Decreased By ▼ -4.25 (-1.31%)
PAEL 40.25 Increased By ▲ 0.31 (0.78%)
PIBTL 17.14 Decreased By ▼ -0.18 (-1.04%)
PIOC 274.58 Decreased By ▼ -0.88 (-0.32%)
PPL 228.73 Decreased By ▼ -4.05 (-1.74%)
PRL 34.49 Decreased By ▼ -0.46 (-1.32%)
SNGP 98.83 Decreased By ▼ -0.78 (-0.78%)
SSGC 26.83 Decreased By ▼ -0.34 (-1.25%)
TELE 8.53 Decreased By ▼ -0.04 (-0.47%)
TPLP 9.33 Increased By ▲ 0.57 (6.51%)
TRG 71.61 Decreased By ▼ -0.14 (-0.2%)
UNITY 11.56 Decreased By ▼ -0.11 (-0.94%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.02 (1.59%)
دنیا

2025 میں افغانستان میں افیون کی کاشت میں 20 فیصد کمی ہوگئی، اقوام متحدہ

  • افغانستان، جو طویل عرصے سے دنیا کا سب سے بڑا افیون پیدا کرنے والا ملک رہا ہے
شائع November 6, 2025 اپ ڈیٹ November 6, 2025 11:40am

اقوامِ متحدہ کے منشیات و جرائم کے ادارے (یو این او ڈی سی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں افیون کی کاشت کے رقبے میں رواں سال 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو 2023 میں طالبان کی جانب سے منشیات کی کاشت پر پابندی کے بعد ہونے والی بڑی گراوٹ کا تسلسل ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان، جو طویل عرصے سے دنیا کا سب سے بڑا افیون پیدا کرنے والا ملک رہا ہے، میں فصل کی پیداوار بھی تیزی سے کم ہوئی ہے اور اس سال تقریباً 32 فیصد کمی کے بعد پیداوار کا تخمینہ 296 ٹن لگایا گیا ہے۔

یو این او ڈی سی کے اندازے کے مطابق 2025 میں افیون کی کاشت کا مجموعی رقبہ 10,200 ہیکٹر رہا، جو 2024 کے 12,800 ہیکٹر کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہے اور 2022 میں پابندی سے پہلے کے 232,000 ہیکٹر کے مقابلے میں نہایت کم سطح پر آ گیا ہے۔

ادارے کے مطابق اگرچہ پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن خشک افیون کی قیمت میں بھی 27 فیصد کمی ہوئی ہے اور یہ 570 ڈالر فی کلوگرام تک گر گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قیمتوں میں کمی مارکیٹ کے ڈھانچے میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جو ممکنہ طور پر دیگر ممالک میں غیر قانونی کاشت کی نئی کوششوں کو جنم دے سکتی ہے۔

یو این او ڈی سی کے مطابق کاشت، قیمتوں اور منشیات کی ضبط کرنے کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان اور اس کے اردگرد منشیات کی منڈیوں اور اسمگلنگ کے رجحانات میں بنیادی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افیون کی زرعی پیداوار میں کمی کے باوجود مصنوعی منشیات خصوصاً میتھ ایمفیٹامین کی پیداوار میں اضافہ جاری ہے۔

ادارے کے مطابق جیسے جیسے افیون پر مبنی معیشت سکڑ رہی ہے، منظم جرائم پیشہ گروہوں نے مصنوعی منشیات کو اپنا نیا کاروباری ماڈل بنا لیا ہے، کیونکہ ان کی تیاری نسبتاً آسان، سراغ لگانا مشکل اور موسمی تغیرات سے کم متاثر ہوتی ہے۔

Comments

Comments are closed.