BR100 Increased By (0.63%)
BR30 Increased By (0.84%)
KSE100 Increased By (0.39%)
KSE30 Increased By (0.42%)
BAFL 58.60 Increased By ▲ 0.16 (0.27%)
BIPL 25.44 Increased By ▲ 0.24 (0.95%)
BOP 34.31 Increased By ▲ 0.32 (0.94%)
CNERGY 8.17 Increased By ▲ 0.06 (0.74%)
DFML 20.97 Increased By ▲ 0.13 (0.62%)
DGKC 195.11 Increased By ▲ 2.14 (1.11%)
FABL 89.98 Increased By ▲ 0.19 (0.21%)
FCCL 53.39 Increased By ▲ 0.56 (1.06%)
FFL 18.03 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 19.60 Increased By ▲ 0.63 (3.32%)
HBL 287.30 Increased By ▲ 1.80 (0.63%)
HUBC 215.25 Increased By ▲ 0.87 (0.41%)
HUMNL 10.90 Increased By ▲ 0.02 (0.18%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.12 (1.5%)
LOTCHEM 27.58 Decreased By ▼ -0.31 (-1.11%)
MLCF 87.20 Increased By ▲ 0.69 (0.8%)
OGDC 323.18 Increased By ▲ 3.22 (1.01%)
PAEL 39.78 Increased By ▲ 0.36 (0.91%)
PIBTL 17.35 Increased By ▲ 0.68 (4.08%)
PIOC 269.00 Increased By ▲ 2.94 (1.11%)
PPL 229.10 Increased By ▲ 0.92 (0.4%)
PRL 34.75 Increased By ▲ 0.07 (0.2%)
SNGP 99.22 Increased By ▲ 0.04 (0.04%)
SSGC 26.99 Increased By ▲ 0.39 (1.47%)
TELE 8.58 Increased By ▲ 0.30 (3.62%)
TPLP 8.59 Increased By ▲ 0.37 (4.5%)
TRG 69.75 Increased By ▲ 0.04 (0.06%)
UNITY 11.72 Increased By ▲ 0.05 (0.43%)
WTL 1.28 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

سیلز ٹیکس ایکٹ، نئے ایس آر او پر تحفظات کا اظہار

  • ٹیئر-ون ریٹیلرز کی درجہ بندی کیلئے کوئی واضح، یکساں یا قابلِ نفاذ فریم ورک فراہم نہیں کیا گیا، ماہرین
شائع November 6, 2025 اپ ڈیٹ November 6, 2025 10:23am

سیلز ٹیکس ماہرین نے نئے ایس آر او 2071 (I)/2025 پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس میں ٹیئر-ون ریٹیلرز کی درجہ بندی کے لیے کوئی واضح، یکساں یا قابلِ نفاذ فریم ورک فراہم نہیں کیا گیا۔

سینئر وکیل اور سیلز ٹیکس ماہر فراز فضل شیخ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین کو ایک خط میں ایس آر او 2071 (I)/2025 کے نفاذ سے متعلق ابہامات اور قانونی تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے وضاحت اور سفارشات پیش کی ہیں۔

ان کے مطابق حالیہ ایس آر او کے کچھ متنازعہ پہلوؤں نے 1990 کے سیلز ٹیکس ایکٹ کی شق 2 (43A) (g) کے نفاذ میں الجھن پیدا کر دی ہے۔

نئے نوٹیفکیشن کے تحت ایف بی آر نے یہ لازمی قرار دیا ہے کہ اگر کسی ڈسٹری بیوٹر کا ماہانہ ودہولڈنگ ٹیکس ایک لاکھ روپے سے زائد یا کسی ریٹیلر کا پانچ لاکھ روپے سے زائد ہو تو وہ ایف بی آر کے ساتھ اپنا کاروبار انٹیگریٹ کرے۔

فراز فضل شیخ نے بتایا کہ شق 2 (43A) میں ٹیئر-ون ریٹیلر کی تعریف کی گئی ہے، جس کے تحت وہ ریٹیلر شامل ہیں جن کا ودہولڈنگ ٹیکس انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعات 236G یا 236H کے تحت مقررہ حد سے تجاوز کرے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کے نوٹیفکیشن ایس آر او (I)/2023 میں صرف سیکشن 236H کا ذکر کیا گیا تھا اور 236G کو شامل نہ کرنے سے ابہام پیدا ہوا۔

حالیہ ایس آر او 2071 (I)/2025 میں دونوں دفعات — 236G اور 236H — کا حوالہ دیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ جن ریٹیلرز کا ودہولڈنگ ٹیکس بالترتیب ایک لاکھ یا پانچ لاکھ روپے سے زیادہ ہے، وہ اپنے کاروبار کو ایف بی آر سے منسلک کرنے کے پابند ہوں گے۔

تاہم اس نوٹیفکیشن میں دو الگ حدیں مقرر کی گئیں ہیں مگر یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ حدیں کن کیٹیگریز پر لاگو ہوں گی۔

فراز فضل شیخ نے نشاندہی کی کہ بنیادی قانون (شق 2 (43A)(g)) میں واضح طور پر لکھا ہے کہ حد کا تعین گزشتہ بارہ مسلسل مہینوں کی بنیاد پر کیا جائے گا، مگر نئے ایس آر او میں ”امیڈیٹ لی پریسیڈنگ پیریڈ“ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، جو قانونی طور پر مبہم اور متضاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت ایک ٹیکس پیریڈ ایک مہینہ تصور کیا جاتا ہے، لہٰذا اگر لفظی طور پر تشریح کی جائے تو ”پریسیڈنگ پیریڈ“ سے مراد صرف ایک مہینہ ہو سکتا ہے، جو بنیادی قانون کی بارہ ماہ کی وضاحت سے متصادم ہے۔

یہ قانونی تضاد اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ ایک ایس آر او کے ذریعے بنیادی قانون کی تشریح یا مدت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔

فراز فضل شیخ نے سفارش کی کہ ایف بی آر ایک جامع وضاحتی نوٹیفکیشن جاری کرے جو شق 2 (43A)(g) کے تحت دونوں دفعات 236G اور 236H کے لیے یکساں یا واضح حدوں کا تعین کرے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.