پی آئی اے کا آپریشنل بحران شدت اختیار کر گیا
- مسلسل ناکامی نے ادارے کی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کا آپریشنل بحران بدھ کے روز مزید سنگین ہوگیا جب انتظامیہ کی جانب سے سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان (ایس اے ای پی) سے رابطہ کرنے میں مسلسل ناکامی نے ادارے کی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔ دوسری جانب مسافروں کو پروازوں کی منسوخی اور تاخیر کے باعث ایک اور دن شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان نے اپنے بیان میں اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ پی آئی اے انتظامیہ نے ان سے کسی قسم کا رابطہ کیا ہے۔ اس وضاحت نے اُن خبروں کی نفی کردی جن میں کہا گیا تھا کہ فریقین کے درمیان تعطل ختم کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اب تک کسی بھی سطح پر ایس اے ای پی سے مذاکرات یا رابطہ نہیں کیا گیا۔ اس انکشاف نے پی آئی اے کے اندر رابطوں کے فقدان کو واضح کر دیا ہے، جبکہ فضائی بحران دوسرے روز میں داخل ہو چکا ہے اور کسی حل کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
انجینئرز کی تنظیم نے واضح کیا کہ اُن کا مؤقف صرف ہوابازی کے تحفظ، پیشہ ورانہ وقار اور اصولی معیار کے دفاع پر مبنی ہے۔ انجینئرز کا مقصد ذاتی مفاد یا مالی مطالبات نہیں بلکہ پروازوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور انجینئرنگ کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنا ہے۔
پی آئی اے کے شیڈول کے مطابق بدھ کے روز مختلف اہم ہوائی اڈوں سے متعدد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں جن میں پی کے-302، پی کے-304، پی کے-306، پی کے-761، پی کے-370، پی کے-536، پی کے-308، پی کے-303، پی کے-601، پی کے-603، پی کے-181، پی کے-331 اور پی کے-739 شامل ہیں۔ پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ سے رابطے کی متعدد کوششوں کے باوجود ان کا مؤقف حاصل نہیں کیا جا سکا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.