BR100 Increased By (0.85%)
BR30 Increased By (1.12%)
KSE100 Increased By (0.54%)
KSE30 Increased By (0.57%)
BAFL 58.66 Increased By ▲ 0.22 (0.38%)
BIPL 25.53 Increased By ▲ 0.33 (1.31%)
BOP 34.35 Increased By ▲ 0.36 (1.06%)
CNERGY 8.18 Increased By ▲ 0.07 (0.86%)
DFML 20.92 Increased By ▲ 0.08 (0.38%)
DGKC 195.57 Increased By ▲ 2.60 (1.35%)
FABL 89.96 Increased By ▲ 0.17 (0.19%)
FCCL 53.60 Increased By ▲ 0.77 (1.46%)
FFL 18.07 Increased By ▲ 0.12 (0.67%)
GGL 19.12 Increased By ▲ 0.15 (0.79%)
HBL 287.50 Increased By ▲ 2.00 (0.7%)
HUBC 215.70 Increased By ▲ 1.32 (0.62%)
HUMNL 10.90 Increased By ▲ 0.02 (0.18%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.12 (1.5%)
LOTCHEM 27.89 No Change ▼ 0.00 (0%)
MLCF 87.55 Increased By ▲ 1.04 (1.2%)
OGDC 322.70 Increased By ▲ 2.74 (0.86%)
PAEL 40.00 Increased By ▲ 0.58 (1.47%)
PIBTL 17.06 Increased By ▲ 0.39 (2.34%)
PIOC 273.00 Increased By ▲ 6.94 (2.61%)
PPL 229.67 Increased By ▲ 1.49 (0.65%)
PRL 34.95 Increased By ▲ 0.27 (0.78%)
SNGP 99.73 Increased By ▲ 0.55 (0.55%)
SSGC 26.88 Increased By ▲ 0.28 (1.05%)
TELE 8.68 Increased By ▲ 0.40 (4.83%)
TPLP 8.73 Increased By ▲ 0.51 (6.2%)
TRG 70.13 Increased By ▲ 0.42 (0.6%)
UNITY 11.71 Increased By ▲ 0.04 (0.34%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور نے پاکستان کے شپنگ اور میری ٹائم سیکٹر میں موجود بے پناہ امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے تاجر برادری کو شپنگ میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے کیونکہ آنے والے سالوں میں عالمی تجارت کے حجم میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی)کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کو دعوت دی کہ وہ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کی دستیاب زمین کے استعمال کے لیے قابل عمل تجاویز پیش کریں۔ بندرگاہ سرمایہ کاروں کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر کام کرسکتی ہےہمارے پاس140 ایکڑ زمین موجود ہے جہاں ہم مشترکہ طور پر ایک صنعتی پارک تعمیر کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مقامی و غیر ملکی دونوں سرمایہ کاروں کو پاکستان کے جدید ترین ٹرمینل کی ترقی میں حصہ لینے کی دعوت دیتی ہے۔ انہوں نے نجی شعبے کو کنسورشیم بنانے کی ترغیب دیتے ہوئے یہ یقین دہانی کروائی کہ حکومت زمین فراہم کرے گی جبکہ نجی شعبہ ٹرمینل کا انتظام سنبھالے گا۔

اس موقع پر چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) ریئر ایڈمرل عتیق الرحمان عابد، چیئرمین پورٹ قاسم اتھارٹی ریئر ایڈمرل (ر) سید معظم الیاس کے علاوہ کے پی ٹی کے جنرل منیجرز و دیگر بھی موجود تھے۔

جنید انور نے کراچی چیمبر کی تاجر وصنعتکار برادری کے لیے خدمات اور بھر پور نمائندگی کو سراہا اور شپنگ ایجنٹس، کے سی سی آئی کے درمیان گہرے ادارہ جاتی تعلقات کا اعتراف کیا۔

انہوں نے یقین دلایا کہ ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر وہ تاجر برادری اور شپنگ ایجنٹس دونوں کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے ایک متوازن اور باہمی فائدہ مند راستہ تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گےانہوں نے مزید کہ وزارتِ بحری امور تاجر برادری کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،اگر کراچی چیمبر کسی ٹرمینل یا بندرگاہ سے متعلق ادارے کے خلاف شکایت درج کراتا ہے تو وزارت بحری امور اس کے جائز مطالبات کی مکمل حمایت کرے گی۔

انہوں نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کو درپیش چیلنجز کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ تنہا مال برداری کے نقصانات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتاانہوں نے بتایا کہ حکومت پی این ایس سی کے بیڑے میں 50 فیصد اضافہ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے اور5 نئے جہازوں کے معاہدے حتمی مراحل میں ہیں۔اگرچہ ابتدائی طور پر پی این ایس سی نے 3 سال میں 30 جہازوں تک توسیع کا ہدف مقرر کیا تھا۔

وزیر بحری امور نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ ہدف ایک سال میں حاصل کیا جائے اور قومی بیڑے کی تیز رفتار جدید کاری اور توسیع کو یقینی بنایا جائے گا، وزارت کا چارج سنبھالنے کے بعد انہوں نے بندرگاہ کی زمینوں پر رئیل اسٹیٹ کے سودوں کی اجازت نہ دینے کا پختہ فیصلہ کیا تاکہ بندرگاہ کے علاقوں کو صرف تجارتی لاجسٹکس اور صنعتی ترقی کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

انہوں نے مزیدکہا کہ اگر پاکستان کی صنعتی و تجارتی صلاحیت دُگنی ہو جائے تو بندرگاہوں کی آپریشنل صلاحیت خود بخود 100 فیصد تک پہنچ جائے گی۔حکومت کا طویل مدتی ویژن 2047 تک بندرگاہوں کی مکمل صلاحیت کے استعمال کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے گوادر میں ہونے والی ترقیات کو اجاگرکرتے ہوئے یاد دلایا کہ بندرگاہ کا قیام گوادر کے عوام کا مطالبہ تھا اور یہ تب ہی ترقی کرے گی جب تاجر برادری وہاں فیکٹریاں اور صنعتیں قائم کرے گی۔

انہوں نے ٹونا مچھلی کی پراسیسنگ، کھجور کی پیداوار اور چین کو مویشیوں کی برآمدات میں مواقع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گوادر کی صورتحال اب کراچی سے بہتر اور زیادہ محفوظ ہے جہاں وزارت بحری امور سرمایہ کاروں کو مکمل سکیورٹی انتظامات فراہم کرے گی۔

وزیر بحری امور نے انکشاف کیا کہ حکومت 700 ایکڑ زمین پر پاکستان میری ٹائم انڈسٹریل زون قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جہاں میڈ ان پاکستان جہاز تیار کیے جائیں گے جہاں اسٹیل میلٹنگ یونٹ اور شپ بریکنگ یارڈ کی سہولت حاصل ہوگی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.