وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کے درمیان ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دوطرفہ تجارت کے جاری منصوبوں، معاہدوں اور مستقبل کے امکانات پر گفتگو ہوئی تاکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
وزیر تجارت جام کمال خان نے ایران کے سفیر کو اسلام آباد میں پاکستان ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن کے بائیسویں اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور ایرانی کمپنیوں و سرکاری اداروں کو 25 سے 27 نومبر 2025 کو کراچی ایکسپو سینٹر میں ہونے والی فوڈ ایگ نمائش میں شرکت کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پلیٹ فارمز پاکستانی و ایرانی کاروباری اداروں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے فروغ کے لیے مؤثر مواقع فراہم کرتے ہیں، بالخصوص زرعی و خوراک کے شعبوں میں تعاون کو بڑھایا جاسکتا ہے۔
جام کمال خان نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ اور زاہدان کے گورنر کی اعلیٰ سطح ملاقاتوں کی تجویز بھی دی تاکہ سرحدی تجارت کو فروغ دیا جا سکے اور سرحدی علاقوں میں بسنے والے لوگوں کے معاشی حالات بہتر ہوں۔ انہوں نے مزید تجویز دی کہ پاکستان کے وفاقی وزرا برائے بحری امور، ریلوے اور مواصلات کو ایران کے دورے کی دعوت دی جائے تاکہ ان شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔
ایرانی سفیر نے دوطرفہ تجارت میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ایران 4 لاکھ ٹن چاول، 3 لاکھ ٹن گوشت، 2 لاکھ ٹن مکئی اور 50 ہزار ٹن جانوروں کی خوراک کی درآمد سے متعلق معاہدوں پر عملدرآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاول کی درآمد مکمل ہوچکی ہے جبکہ اب ایران مکئی اور چارے کی خریداری کے لیے تیار ہے۔
وزیر تجارت نے کہا کہ گزشتہ برس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مثبت روابط کے نتیجے میں دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بارٹر ٹریڈ میکانزم میں کی گئی ترامیم پر ایرانی حکومت کے تعاون کو سراہا، جس سے کاروباری لین دین مزید آسان ہوا ہے۔
جام کمال نے بتایا کہ پاکستان ایران فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کا متن داخلی منظوری کے مراحل میں ہے اور جلد حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ ایرانی سفیر نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کوئٹہ اور زاہدان کے درمیان پروازوں کی بحالی کو بھی خوش آئند قرار دیا۔
دونوں فریقین نے 2028 تک دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچانے کے ہدف کے حصول کے عزم کا اعادہ کیا اور حالیہ مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس کو دوطرفہ تعلقات میں اہم سنگ میل قرار دیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.