سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ جب کسی تنازع کا فیصلہ حتمی مرحلے تک پہنچ جائے تو اسے دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا، خصوصاً کسی نچلے فورم کے ذریعے۔ عدالت عظمیٰ کے چھ صفحات پر مشتمل فیصلے میں جسٹس محمد شفیع صدیقی نے تحریر کیا کہ اس اصول کا بنیادی مقصد عدل و انصاف کے نظام کو برقرار رکھنا اور قانونی عمل کے غلط استعمال کو روکنا ہے تاکہ مقدمات کے نتائج حتمی رہیں اور ایک ہی معاملے پر بار بار عدالتی کارروائیاں نہ ہوں۔
کیس کے حقائق کے مطابق ڈائریکٹر انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن نے ہینو پرائم موورز کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے سامان کو ضبط کیا اور کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 17 کے تحت نوٹس جاری کیا۔ متاثرہ فریقین، برکی اینڈ کمپنی اور ایم/ایس امیر محمد ایسوسی ایشن نے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انہوں نے امپورٹ پالیسی آرڈر 2013 کی پیرا 9(ii) (1) اور (5) کی کسی شرط کی خلاف ورزی نہیں کی۔
تاہم سندھ ہائی کورٹ نے 26 اپریل 2016 کو اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ امپورٹ پالیسی آرڈر 2013 کے تحت درآمد کیے گئے پرائم موورز فروخت کے لیے درخواست گزاروں کے شورومز میں پائے گئے، جنہیں اصل مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا گیا، اس لیے ان کی ضبطی درست تھی۔ بعد ازاں 23 جون 2016 کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
درخواست گزاران نے تمام عدالتی مراحل مکمل کرنے کے باوجود ایک اور کارروائی کا آغاز کیا اور شوکاز نوٹس کے جواب میں نیا مقدمہ دائر کیا، حالانکہ سپریم کورٹ پہلے ہی امپورٹ پالیسی آرڈر کی خلاف ورزی سے متعلق تنازعہ کو طے کر چکی تھی۔ اس کے باوجود درخواست گزاروں نے کسٹمز اپیلیٹ ٹربیونل کراچی بینچ-II سے رجوع کیا، جس نے پہلے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ دیا۔
عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ ٹربیونل کا یہ اقدام توہین آمیز اور عدالتی عمل کے غلط استعمال کے مترادف ہے کیونکہ معاملہ حتمی طور پر طے پا چکا تھا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ’نظریۂ انتخاب کے تحت درخواست گزار ایک ہی معاملے پر دوبارہ قانونی چارہ جوئی نہیں کر سکتے۔ عدالت نے واضح کیا کہ درخواست گزار دوسری بار کسی اور فورم سے وہی ریلیف حاصل نہیں کر سکتے جو پہلے ہی مسترد ہو چکا ہو۔ سپریم کورٹ نے ٹربیونل کے فیصلے کو غیر قانونی اور ناقابلِ عمل قرار دیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.