فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے مشروبات کے شعبے میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے پیداوار کی لائنوں کی نگرانی کی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا اقدام مالی سال 2025-26 میں مانیٹرنگ اور محصولات میں اضافے کا باعث بنے گا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی مشروبات کی صنعت جس میں کاربونیٹڈ ڈرنکس، جوسز، بوتل والا پانی اور دیگر پیک شدہ اشیاء شامل ہیں ملکی مینوفیکچرنگ اور روزگار میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے، مگر ٹیکس چوری کے خطرات سے دوچار ہے
ماہرین نے کہاکہ پیداوار اور سپلائی چین کی مؤثر نگرانی کا فقدان ہے۔ پاکستان کا مجموعی ٹیکس نظام پہلے ہی بڑے خسارے کا شکار ہے اور مشروبات کا شعبہ ان اہم شعبوں میں شمار ہوتا ہے جہاں بہتر نگرانی سے ٹیکس وصولی میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔
سرکاری اندازوں کے مطابق قومی ٹیکس خسارہ تقریباً 3.4 کھرب روپے ہے، جب کہ مشروبات کے شعبے میں صرف سولہ کمپنیاں اپنی حقیقی فروخت کی رپورٹنگ کر رہی ہیں، جو کم رپورٹنگ، غیر دستاویزی پیداوار اور غیر رسمی مارکیٹ میں مصنوعات کی منتقلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان مسائل کے حل کے لیے ایف بی آر مشروبات کے کارخانوں میں بارکوڈ پر مبنی نظام اور ڈیجیٹل کنٹرولز کے ذریعے مانیٹرنگ کے اقدامات کر رہا ہے۔ یہ حکمتِ عملی تمباکو اور چینی کے شعبوں میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی کامیابی کے بعد دیگر ریگولیٹڈ صنعتوں تک اس نظام کے پھیلاؤ کے لیے بنائی گئی ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ ایک جامع ٹریک اینڈ ٹریس نظام پیداوار اور تقسیم کے عمل کی حقیقی وقت میں نگرانی، ٹیکس گوشواروں کے ساتھ پیداوار کی تصدیق، غیر قانونی تجارت کی روک تھام اور مؤثر نفاذ کے لیے انٹیلی جنس فراہم کرتا ہے۔ چینی کے شعبے میں اس نظام کے نفاذ سے آمدنی میں 33 فیصد اور تمباکو کے شعبے میں محصولات 61.79 ارب روپے سے بڑھ کر 83.5 ارب روپے تک پہنچ گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ویڈیو اینالیٹکس جیسے اضافی آلات نگرانی میں مدد دے سکتے ہیں، مگر وہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کے لیے محفوظ مالیاتی نشانات (Fiscal Markers) نہ صرف اشیاء کی صداقت یقینی بناتے ہیں بلکہ صارفین کو ٹیکس شدہ اور غیر قانونی مصنوعات میں فرق کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔


Comments
Comments are closed.